ہمیں دھمکایا نہیں جا سکتا: براؤن | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ کے وزیراعظم گورڈن براؤن نے کہا ہے کہ برطانیہ القاعدہ سے تعلق رکھنے والے افراد کی دھمکی سے مرعوب نہیں ہوگا۔ وہ سنیچر کو ایک جلتی ہوئی جیپ کوگلاسگو ہوائی اڈے کے مرکزی ٹرمینل میں لے جانے کے واقعے کے بعد بی بی سے بات کر رہے تھے جس کا تانا بانا جمعہ کو لندن کے ویسٹ اینڈ سے برآمد ہونے والی دو کار بموں سے جوڑا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے: ’ہم کسی کو بھی برطانوی اندازِ زندگی کو متاثر کرنے کی اجازت نہیں دیں گے‘۔ بی بی سی ون کے سنڈے اے ایم پروگرام میں بات کرتے ہوئے گورڈن براؤن کا کہنا تھا:’یہ واضح ہے کہ عام لفظوں میں ہمارا واسطہ القاعدہ سے تعلق رکھنے والے افراد سے ہے۔‘ پولیس کا کہنا ہے کہ حملے واضح طور پر اسلامی شدت پسندوں کا کام ہیں۔ گلاسگو ائر پورٹ کے واقعے کے بعد پولیس نے پانچ افراد کو حراست میں لیا ہے۔ گلاسگو میں گھروں کی تلاشی لی جا رہی ہے۔
برطانوی حکومت نے گلاسگو ہوائی اڈے کے واقعے کے بعد ملک میں دہشتگردی کے خطرے کا درجہ انتہائی حد تک بڑھا دیا ہے۔ گلاسگو ائر پورٹ سے حراست میں لیے جانے والے دو افراد میں سے ایک سنیچر کے واقعے میں بری طرح سے جھلسنے کے باعث ہسپتال میں ہے۔ دو گرفتاریاں شمالی انگلینڈ کے علاقے چیسشائر سے کی گئی ہیں جبکہ ایک کو لِیور پول کے علاقے سے حراست میں لیا گیا ہے۔ برطانیہ کے وزیراعظم گورڈن براؤن نے عوام سے مستعد رہنے کی اپیل کی ہے۔ اپنے بیان میں ان کا کہنا تھا ’میں جانتا ہوں کہ برطانوی عوام متحد رہیں گے‘۔ حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس واقعے کو دہشتگردی کی کارروائی تصور کیا جا رہا ہے اور اس حملے کا تعلق گزشتہ روز لندن سے ملنے والے دو کار بموں سے ہے۔ الرٹ لیول کو بڑھانے کافیصلہ حکومت کی ایمرجنسی کمیٹی’کوبرا‘ کے اجلاس کے بعد کیا گیا۔ برطانوی ہوم سیکرٹری جیکی سمتھ کا کہنا ہے’خطرے کے درجے کی انتہائی حد پر جانے کا مطلب ہے کہ حملے کا خدشہ فوری طور پر موجود ہے‘۔ مقامی پولیس نے بتایا ہے کہ اس واقعے کے بعد دو افراد کو گرفتار کیا گیا ہے اور حکام کے مطابق ان میں سے ایک شخص ایک’مشتبہ ڈیوائس‘ پہنے ہوئے تھا تاہم بعد میں یہ بات درست نہیں نکلی۔ سٹرچدیل پولیس حکام نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا ہے کہ اب گلاسگو ہوائی اڈے کے واقعے کا تعلق لندن کار بم سازش سے جوڑا جا رہا ہے۔ چیف کانسٹیبل ولی رائی کا کہنا تھا’ ان واقعات میں بہت مشابہت ہے اور ہم اب تصدیق کر سکتے ہیں کہ اس واقعے کو ایک دہشت گرد حملہ مانا جا رہا ہے‘۔ اس واقعے کے بعد برطانیہ کے ہوائی اڈوں، ریلوے سٹیشنوں، اہم عمارات اور عوامی مقامات پر سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ گلاسگو ائر پورٹ کے مرکزی ٹرمینل میں جلتی ہوئی جیپ لے کر گھسنے کا واقعہ سنیچر کی دوپہر پیش آیا تھا اور عینی شاہدین نے بتایا تھا کہ انہوں نے ایک چروکی جیپ کو تیزی کے ساتھ ہوائی اڈے کے اندر جاتے ہوئے دیکھا اور اس کے نیچے سے شعلے نکل رہے تھے۔ عینی شاہدین نے دو ایشیائی نوجوانوں کو اس کار میں دیکھا اور ان میں سے ایک کو جلتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ اس واقعے کے بعدگلاسگو ہوائی اڈے کو خالی کرا لیا گیا تھا اور تمام پروازیں معطل کر دی گئی تھیں۔
موقع پر موجود ٹیکسی ڈرائیور این کراسبی کا کہنا تھا کہ ’یہ حادثہ نہیں تھا۔ یہ گلاسگو ہوائی اڈے پر ایک دانستہ کارروائی تھی‘۔ کراسبی نے بتایا کہ وہاں موجود لوگوں کا ردعمل کار میں سوار نوجوانوں کو بچانا نہیں بلکہ انہیں کنٹرول کرنا تھا۔ یاد رہے کہ جمعہ کو برطانوی پولیس نے لندن کے مرکزی علاقے میں کھڑی ایک کار میں موجود دھماکہ خیز مواد ناکارہ بنا دیا تھا اور چندگھنٹوں کے اندر ایک دوسری کار کا بھی پتہ چلا تھا جس کا پہلی کار سے تعلق تھا۔ پولیس حکام نے بتایا تھا کہ اگر وہ کار بم پھٹ گیا ہوتا تو’بڑے پیمانے پر تباہی‘ ہوتی۔ سکاٹ لینڈ یارڈ کے شعبۂ انسدادِ دہشتگردی کے سربراہ پیٹر کلارک نے کہا تھا کہ ’اگر وہ دھماکہ ہوتا تو بڑا جانی نقصان ہو سکتا تھا۔‘ برطانوی پولیس ان دونوں کاروں میں دھماکہ خیز مواد رکھنے والوں کی وسیع پیمانے پر تلاش کررہی ہے اور پولیس نے کہا ہے کہ یہ واقعات ’پریشان کن‘ ہیں۔ پولیس مشتبہ افراد کی تلاش کے لیے سی سی ٹی وی کے کئی گھنٹوں کے فوٹیج بھی دیکھ رہی ہے۔ |
اسی بارے میں مرکزی لندن،دھماکہ خیز مواد برآمد29 June, 2007 | آس پاس لندن بمبار، تلاش کا دائرہ وسیع30 June, 2007 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||