افغان قیدی پر تشدد ،امریکی کو قید | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے ایک سابق ٹھیکیدار کو افغانستان میں ایک قیدی پر تشدد کے جرم میں آٹھ برس اور چار ماہ قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ چالیس سالہ ڈیوڈ پسارو پر الزام تھا کہ انہوں نے جون سنہ 2003 میں افغانستان میں ایک امریکی فوجی اڈے پر ایک افغان قیدی عبدل ولی پر پوچھ گچھ کے دوران مسلسل جسمانی تشدد کیا تھا۔ اس تشدد سے اگلے ہی روز عبدل ولی کی موت واقع ہوگئی تھی۔ ڈیوڈ پسارو وہ پہلے امریکی شہری ہیں جنہیں افغانستان اور عراق میں امریکی کارروائی کے آغاز کے بعد سے قیدیوں سے ناروا سلوک کا مجرم ٹھہرایا گیا ہے۔ مقدمے کی سماعت کرنے والے جج ٹیرنس بوائل نے کہا کہ صرف پوسٹ مارٹم رپورٹ کی عدم موجودگی کی وجہ سے پسارو پر قتل کا الزام نہیں لگا۔ جبکہ خود ڈیوڈ پسارو کا کہنا تھا کہ وہ بھی ایک انسان ہیں اور اگر ان پر ایسے حاالات دوبارہ آئیں تو شاید وہ نہ ہو جو اُس وقت ہوا۔ انہوں نے کہا’ کاش کہ میں تب اُس سے بات کرنے نہ گیا ہوتا‘۔ تشدد کا یہ واقعہ اس وقت پیش آیا تھا جب عبدل ولی نامی افغان کسان رضاکارانہ طور پر ایک راکٹ حملے کے واقعے کے حوالے سے اپنی صفائی پیش کرنے امریکی حکام کے پاس گیا تھا۔ مقامی افغان گورنر سید اکبر نے بھی اس مقدمے کے جج کو ایک خط تحریر کیا تھا جس میں انہوں نے کہا کہ عبدل ولی کی ہلاکت دہشتگردوں کی نفری میں اضافے کی وجہ بنی ہے۔ سید اکبر کے کہنے پر ہی عبدل ولی امریکیوں کے پاس گیا تھا۔ | اسی بارے میں افغان ہلاکت، امریکی پر مقدمہ08 August, 2006 | آس پاس افغانستان: ناامیدی میں اضافہ07 December, 2006 | آس پاس قیدیوں پر تشدد، امریکہ پر تنقید27 October, 2004 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||