خفیہ پروازیں: یورپی ملکوں کی مذمت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یورپی پارلیمان نے اس رپورٹ کو منظور کر لیا ہے جس میں یورپی یونین کے اُن رکن ممالک کی مذمت کی گئی ہے جنہوں نے سی آئی اے کی خفیہ پروازوں پر درگزر کیا جن میں سے کچھ پر مشتبہ دہشت گردوں کو یورپ میں اتارا گیا۔ رپورٹ کے مطابق کئی یورپی حکومتوں نے مشتبہ افراد کی خفیہ منتقلی میں امریکی اداروں کے ساتھ تعاون کیا۔ یورپی پارلیمان کا کہنا ہے کہ جن چودہ یورپی ممالک نے سی آئی اے کو اس بات کی اجازت دی کہ وہ مشتبہ دہشت گردوں کو زبردستی اتارے، ان میں برطانیہ، جرمنی اور اٹلی شامل ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ نے بار سو پروازوں سے مشتبہ دہشت گردوں کو ان ریاستوں میں اتارا جہاں انہیں تشدد کا سامنا تھا۔
یورپی پارلیمان نے ووٹنگ کے ذریعے اس قرادار کو منظور کیا تھا جس میں ان رکن ممالک کی مذمت کی گئی تھی جنہوں نے یا تو سی آئی اے کی پروازوں کے ذریعے مشتبہ افراد کو خفیہ طور منتقل کرنے کے عمل کو نظر انداز کیا یا پھر اسے قبول کیا۔ اس رپورٹ کو اکثریتی ووٹ کے ذریعے منظور کیا گیا جس میں یورپی پارلیمان کے تین سو بیاسی اراکین نے قرارداد کے حق میں اور دو سو چھپن ارکان نے مخالفت میں ووٹ ڈالا۔ چوہتر اراکین نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ یہ رپورٹ ایک خصوصی کمیٹی کی تحقیقات کی بنیاد پر تیار کی گئی تھی. یورپی پارلیمان نے کہا ہے کہ اس معاملے کی آزادانہ انکوائری بھی ہونی چاہیے۔ یورپی پارلیمان میں سی آئی اے کی کارروائیوں پر بحث متنازعہ رہی ہے اور اس موضوع پر رپورٹ تیار کرنے والوں کا دعوٰی ہے کہ تحقیقات میں بہت سے نئے شواہد ملے ہیں۔
پارلیمان کے ہسپانوی رکن اگناسیوگواردانس کیمبو نے کہا کہ نتائج کے لیے ہر جائز و ناجائز طریقے کو درست قرار نہیں دیا جاسکتا۔انہوں نے کہا: ’ ہم بعض لوگوں سے ملے ہیں جو ان کارروائیوں کا شکار رہے جبکہ کچھ ابھی تک جیل میں ہیں۔‘ ’گوانتانامو میں قید کچھ لوگوں کو اس وقت ان کے گھروں سے پکڑا گیا جب عدالتوں نے انہیں بے گناہ قرار دے دیا تھا۔ اسی وجہ سے ہم یورپی اتحاد کے رکن ملکوں کو ایک پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ وہ یورپی عوام کے نام پر اس طرح کی کارروائیاں نہیں کرسکتے۔ یورپی عوام کے نام پرناجائز جنگ کے ذریعے دہشت گردی کا مقابلہ نہیں کیا جاسکتا۔‘
لیکن توقع ہے اگناسیو گواردانز کیمبو جیسے ارکان کے برعکس سب سے بڑے گروپ یعنی دائیں بازو کی جانب جھکاؤ رکنے والے یورپی ارکان پارلیمان اس رپورٹ کے خلاف ووٹ دیں گے۔ مبصرین کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ رپورٹ کا محرک امریکی مخالفت ہے اور تحقیقات کے دوران انسانی حقوق کے یورپی ادارے کونسل آف یورپ کی تفتیش کی ہی نقل کی گئی ہے۔ یوکے انڈیپنڈنٹ پارٹی کے رکن پارلیمان جیرلڈ بیٹن کا کہنا ہے کہ رپورٹ میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکی طریقوں پر بہت سے ارکان کی تشویش واضح دکھائی دیتی ہے۔ اتحاد کی صدارت اس وقت جرمنی کے پاس ہے جس نے یہ اعتراف کیا ہے کہ یورپی ارکان پارلیمان کی تفتیش نے جرمنی سمیت کئی رکن ملکوں کو پورے معاملے کی اپنے طور پر تحقیقات پر مجبور کردیا ہے۔ اتحاد کے کمشنر برائے انصاف فرانکو فراٹینی نے کہا کہ یورپی اتحاد صرف سچ کی پاسداری کرے گا چاہے وہ تکلیف دہ اور ناقابل قبول ہی کیوں نہ ہو۔ | اسی بارے میں سی آئی اے: یورپی پارلیمنٹ کا غصہ02 December, 2005 | آس پاس خفیہ جیلیں: امریکہ تحقیق کرے گا29 November, 2005 | آس پاس صدام دور جیسا حال ہے: علاوی27 November, 2005 | آس پاس تشدد ہوا پر اتنا نہیں: عراقی وزیر17 November, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||