’جہاں اللہ اللہ کرنے کے سوا کچھ نہ ہو‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گوانتانامو میں قیدیوں کے پاس سوائے اللہ اللہ کرنے کے کچھ نہیں۔ نہ کوئی بولنے والا نہ کوئی سننے والا۔ وہ قرآن پڑھتے ہیں، پھر نماز پڑھتے ہیں، پھر قرآن اور پھر نماز۔ میرے اس دورے میں امریکی فوجیوں نے ہمیں وہ تمام انتظامات دکھائے جس سے ظاہر ہو کہ امریکہ کو اپنے بدترین دشمنوں کے عقیدے کا بھی کتنا پاس ہے۔ فوجیوں کا کہنا ہے کہ یہاں ہر قیدی کو قرآن دیا جاتا ہے۔ قرآن دینے سے پہلے غیر مسلم سکیورٹی گارڈ کے لیے احترامًا ہاتھوں میں پلاسٹک کے دستانیں پہننا لازمی ہوتا ہے۔ یہاں جاء نماز اور تسبیح بھی مہیا کی جاتی ہے لیکن خاص مراعات کے طور پر صرف ان قیدیوں کے لیےجو فوجیوں کا کہا مانتے ہیں اور انہیں تنگ نہیں کرتے! مجھے یہاں جوگوانتامو دکھایا جا رہا ہے وہ اس گوانتانامو سے بالکل مختلف ہے جو قیدیوں کو ایذا دیے جانے اور قرآن کی بے حرمتی کے لیے بدنام ہے۔
گوانتامو سے ابتدائی برسوں میں ہی عدم ثبوت کی بناء پر رہا کیے جانے والے کئی قیدی کہتے رہے ہیں کہ گارڈز انہیں ذہنی اذیت پنہچانے کے لیے ان کے سامنے قرآن کے ساتھ بد سلوکی کرتے اور مسلمانوں کی مقدس کتاب کا مذاق اڑاتے تھے۔ پھر سامنے آیا مئی دوہزار پانچ میں امریکی جریدے ’نیوز وویک‘ کا یہ انکشاف کہ گوانتانامو کے امریکی گارڈز کو قرآن بیت الخلاء میں پھینکتے دیکھا گیا ہے۔ مسلم دنیا کے لیے یہ خبر اشتعال انگیز ثابت ہوئی۔ قاہرہ سے لے کر پاکستان تک لوگوں نے سڑکوں پر آ کر مظاہرے کیے۔ امریکہ کے خلاف بعض پر تشدد مظاہروں میں کم از کم سولہ افراد مارے گئے۔ لیکن قرآن کی بے حرمتی کی یہ خبر بے بنیاد نکلی۔ امریکی جریدے ’نیوز وویک‘ کو اس پر سرِ عام یہ کہہ کر معافی مانگنی پڑی کہ اس کے پاس اس خبر کی تصدیق کے لیے خاطر خواہ ثبوت نہیں تھے۔ گوانتانامو کے انچارج اعلیٰ کمانڈر ریئر ایڈمرل ہیری ہیرس کہتے ہیں کہ اُس واقعے کی طرح، باقی الزامات بھی بے بنیاد ہیں: ’ان تمام الزامات کی جامع تفتیش کے بعد یہ ثابت ہوچکا ہے کہ یہاں ایذا اور غیرانسانی سلوک کی باتیں غلط طور پر پھیلائی گئیں‘۔
اپنی اس تفتیش میں امریکی حکام نے اتنا تسلیم کیا کہ بعض فوجیوں کے غیر ذمہ دارنہ رویے کی وجہ سے قیدیوں کے ساتھ ضرور زیادتیاں ہوئیں لیکن ان غلط حرکتوں کو ’ٹارچر‘ یا ’غیرانسانی‘ سلوک نہیں کہا جاسکتا۔ مسئلہ صرف یہ ہے کہ ان تمام الزامات کی آزادانہ اور غیرجانبدارانہ ذرائع سے آج تک تحقیق نہیں کی گئی اور جو بھی انکوائریاں ہوئی ہیں وہ امریکی فوج کی اپنی ایجنسیوں نے کی ہیں۔ اسی لیے ان کے قابلِ اعتبار ہونے پر سوالیہ نشان ہے۔ انسانی حقوق کے کچھ حلقے یہ بات ضرور مانتے ہیں کہ پانچ سال پہلے کے گوانتانامو میں اور آج کے گوانتانامو میں خاصا فرق ہے۔ لیکن یہاں موجود تین سو پچاسی قیدیوں کے لیے جو بنیادی چیز نہیں بدلی وہ امریکہ کے ہاتھوں انصاف کے عالمی تقاضوں سے مُبرا ان کی لگاتار قیدِ تنہائی ہے۔ ایسے میں وہ یہاں اپنے بےبس دن اور راتیں صرف نماز اور قرآن کے سہارے ہی کاٹنے پر مجبور ہیں۔ (شاہ زیب جیلانی کا گوانتانامو کا یہ دورہ امریکی فوج کی کڑی نگرانی کے تحت عمل میں آیا۔ گوانتانامو کے حراستی مرکز کے اندر انہوں نے جو کچھ دیکھا اور سنُا وہ سلسلہ وار کالموں ’گوانتانامو ڈائری‘ میں جاری ہے)۔ |
اسی بارے میں ’زبردست‘ کھانوں پر بھی بھوک ہڑتال؟10 April, 2007 | آس پاس گوانتانامو، شگوفے، شاعری اور ہیری08 April, 2007 | آس پاس پتہ نہیں باہر دن ہے یا رات؟06 April, 2007 | آس پاس امیدوں کے پودے مُرجھا رہے ہیں16 March, 2007 | آس پاس لاپتہ قیدی: امریکہ پر نیا الزام01 March, 2007 | آس پاس گوانتانامو کے چودہ قیدیوں پر مقدمہ09 March, 2007 | آس پاس مشتبہ قیدی دشمن جنگجو ہیں؟10 March, 2007 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||