BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 29 August, 2007, 01:00 GMT 06:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’سیاسی اسلام سے تمام رشتے توڑ لیے‘
عبداللہ گل
مسٹر گل ایک تجربے کار سیاست داں ہیں
سنہ 1923 میں ترکی جمہوریہ کے قیام کے بعد ملک کی تاریخ میں عبداللہ گُل اسلامی پس منظر کے حامل ایسے پہلے سیاسی رہنما ہیں جو ملک کے صدر بن گئے ہیں۔

اس برس اپریل میں جب عبداللہ گل ترکی کے وزیرِ خارجہ تھے تو انہیں امیدوار بنائے جانے پر سیکولر جماعتوں نے پارلیمانی ووٹنگ کا بائیکاٹ کر کے سیاسی تعطل پیدا کر دیا تھا۔

مئی میں لاکھوں ترکوں نے اے کے پی کی جانب سے عبداللہ کو صدر کے عہدے کے لیے نامزد کرنے کے خلاف مارچ کیا۔ لیکن اس کے بعد ’اے پی کے‘ نےابتدائی پارلیمانی انتخابات میں قریباً پچاس فیصد ووٹ حاصل کیے۔

سیکولر جماعتوں کی مخالفت کے باوجود حکمران اے کے پارٹی نے انہیں دوبارہ نامزد کرنے کا فیصلہ کیا۔ پارٹی کا کہنا تھا کہ انتخابات میں زبردست کامیابی نے پارٹی کو ایسا کرنے کی اجازت دی ہے۔

56 سالہ عبداللہ گُل کہتے ہیں کہ انہوں نے سیاسی اسلام سے اپنے تمام رشتے توڑ لیے ہیں۔ وہ وزیر خارجہ کی حیثیت سے اپنی چار سال کی خدمات کا ذکر کرتے ہیں جس میں انہوں نے جمہوری اصلاحات اور یورپی یونین میں ترکی کی رکنیت کے لیے کوششیں کیں۔

ترکی نے جمہوریہ بننے کے بعد سے مذہب اور سیاست کو بالکل علیحدہ رکھا ہے اور سیکولر طاقتوں کو یہ بات پسند نہیں کہ عبداللہ گُل کی اہلیہ سر پر حجاب پہنتی ہیں۔

عبداللہ گل کی اہلیہ سکارف پہننے والی پہلی خاتون اوّل ہونگی حالانکہ ابھی یہ واضع نہیں کہ صدارتی محل میں ایسا کیسے ممکن ہوگا کیونکہ سرکاری اداروں میں سر پر سکارف پہننے پر پابندی ہے۔

 مسٹر گل ایک تجربے کار سیاست داں ہیں 2003 میں وزیر خارجہ بننے کے بعدانہوں نے ترکی کو یورپی یونین کا حصہ بنانے کی کوششیں تیز کر دی تھیں سنہ 2002 کے اواخر میں انہوں نے وزیر اعظم کے عہدے کے فرائض بھی انجام دیے

عبداللہ گُل 10 اکتوبر 1950 میں کیسیری میں پیدا ہوئے۔ 1971 میں انہوں نے استنبول یونیورسٹی سے اکنامکس میں گریجویشن کی اور 1983 میں وہیں سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ 1980 میں ان کی شادی خیرالنساء سے ہوئی اور ان کے دو بیٹے ہیں۔

1991 میں وہ ویلفئیر پارٹی کے ساتھ پارلیمان میں شامل ہوئے اور 1999 میں دوبارہ ورچو پارٹی کے رکن منتخب ہوئے۔اس کے بعد 2001 میں وہ ’جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ‘ (اے کے) کے بانی ممبر ہوئے۔

عبداللہ گل ایک تجربہ کار سیاست داں ہیں۔ 2003 میں وزیر خارجہ بننے کے بعدانہوں نے ترکی کو یورپی یونین کا حصہ بنانے کی کوششیں تیز کر دی تھیں سنہ 2002 کے اواخر میں انہوں نے وزیراعظم کے عہدے کے فرائض بھی انجام دیے

عبداللہ گل نے طیب اردگان کی قائم مقامی بھی کی۔ جب طیب اردگان ایک سیاسی ریلی میں اسلامی نظم پڑھنے کے قصوروار پائے گئے تھے اور ان پر 2002 کے الیکشن میں حصہ لینے پر پابندی لگا دی گئی تو ان کی قائم مقامی میں عبداللہ گل نے آئین میں ترمیم کی نگرانی کر کے ضمنی انتخابات کرائے اور مسٹر اردگان کو واپس پارلیمنٹ پہنچایا۔

سیکولر طاقتوں کا خدشہ ہے کہ اگر پارلیمان اور صدارتی عہدہ دونوں پر اے کے پی کا قبضہ ہو گیا تو وہ ’اسلامی ایجنڈا‘ آگے لیجائے گی۔حالانکہ مسٹر گل کا کہنا تھا کہ ’اگر وہ منتخب ہوئے تو وہ سیکولر اصولوں پر چلیں گے‘۔سر پر سکارف پہننے کے بارے میں ان کا کہناتھا کہ یہ لوگوں کا ذاتی معاملہ ہے اور لوگوں کو اس کا احترام کرنا چاہئے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد