ترکی: جلد انتخابات کرانے کی پیشکش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ترکی کے وزیر اعظم رجب طیب اردوگان نے کہا ہے کہ وہ پارلیمان سے پیش کش کریں گے کہ وہ ملک میں قبل از وقت عام انتخابات کرانے کی تجویز منظور کر لے۔ ترک وزیر اعظم نے یہ بات جمعہ کو ہونے والے آیینی عدالت کے اس فیصلے کے بعد کہی ہے جس کے تحت صدارتی انتخاب کو کالعدم قرار دے دیا گیا تھا۔ ترکی کی سیکیولر جماعتوں نے اس انتخاب کو عدالت میں چیلینج کیا تھا۔ ان جماعتوں کا موقف ہے کہ وزیر اعظم کے امیدوار اور ملک کے موجودہ وزیر خارجہ عبد اللہ گل کا خفیہ اجینڈا ’اسلامی‘ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عبداللہ گل کے منتخب ہونے سے ترکی کے سیکیولر نظام کو خطرہ لاحق ہے۔ ترک وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ وہ نہ صرف عام انتخابات جلد منعقد کرانا چاہتے ہیں بلکہ وہ ایک آئینی ترمیم بھی عمل میں لانا چاہیں گے جس کے بعد صدر کا انتخاب براہ راست عوام کرسکے۔ مسٹر اردوگان نے بتایا کہ صدارتی انتخاب کی نئی تاریخ بدھ کو طے ہوگی۔ عبداللہ گل کا تعلق مسٹر اردوگان کی ’اے کے‘ جماعت سے ہے۔ اسمبلی کے 550 اراکین میں سے 357 نے عبداللہ گل کے حق میں ووٹ ڈالے لیکن حزب اختلاف کے بائکاٹ کی وجہ سے 367 کا کورم پورا نہ ہو سکا۔ استنبول میں بی بی سی کی نامہ نگار سارہ ریئنسفرڈ کا کہنا ہے ترکی کی فوج نے یہ واضح کر دیا ہے کہ عبداللہ ان کو بحیثیت صدر قبول نہیں ہونگے۔ ان کا کہنا ہے کہ آئینی عدالت غیر جانبدار ہے لیکن اس پر اس معاملے میں خاصا دباؤ تھا۔ اتوار کو استنبول میں سیکیولر نظام کے حق میں ایک بڑا مظاہرہ ہوا۔ مسٹر گل اور مسٹر اردوگان نے اس بات کی تردید کی ہے کہ وہ ملک پر کوئیی اسلامی نظام مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ | اسی بارے میں ترکی: سیکولرازم کے حق میں جلوس29 April, 2007 | آس پاس ترکی: انتخابات، فوج کی وارننگ28 April, 2007 | آس پاس ترکی کی شمولیت کے لیے مذاکرات12 June, 2006 | آس پاس ترک وزیراعظم پر تنقید کا قصہ11 May, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||