 | | | ترکی کی فوج خود کو سکیولرازم کا محافظ سمجھتی ہے |
ترکی میں پہلے دور کے صدارتی انتخابات کے بعد وہاں کی فوج نے ملک کے سیکولر اقدار کو چیلنج کرنے والے عناصر کے خلاف وارننگ دی ہے۔ ایک سخت بیان میں ترک فوج نے اپنے سکیولر کردار کا دفاع کیا ہے اور وارننگ دی ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ اپنا کردار ادا کرنے سے نہیں کترائے گی۔ ترکی میں اس وقت اسلام پسند حکومت ہے۔ حکمراں جماعت کے امیدوار اور وزیر خارجہ عبداللہ گل پہلے دور کی پارلیمانی ووٹنگ میں اکثریت نہیں حاصل کرسکے تھے اور اب دوسرے دور کی ووٹنگ ہونی ہے۔ سکیولر جماعتوں پر مبنی اپوزیشن نے ترکی کی آئینی عدالت کو پیٹیشن کیا ہے کہ جب پہلے دور کی ووٹنگ ہوئی تو اس وقت پارلیمان میں موجود نمائندگان کی تعداد کافی نہیں تھی۔ عبداللہ گل کو کل 357 ووٹ ملے تھے جبکہ فتح کے لیے 367 ووٹ ضروری ہیں۔ ترکی میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ملک کے سکیولر الیٹ کو خدشہ ہے کہ عبداللہ گل کی کامیابی سے ترک جمہوریہ کو نقصان ہوسکتا ہے۔ فوج نے اپنے بیان میں کہا کہ اسے انتخابی عمل پر ’خدشہ‘ ہے۔  | | | عبداللہ گل | فوج کی جانب سے جاری کیے جانے والے بیان کو آئینی عدالت کے لیے اشارہ سمجھا جارہا ہے کہ وہ پہلے دور کی ووٹنگ کو ناقص قرار دے۔ فوج کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’یہ بھولنے کی ضرورت نہیں ہے کہ ترک مسلح افواج اس مباحثے میں ایک فریق ہیں اور سیکولرازم کے مضبوط محافظ ہیں۔‘ استنبول میں بی بی سی کی نامہ نگار سارہ رینسفرڈ کا کہنا ہے کہ دیر رات گئے جاری کیے جانے والے فوج کے بیان سے ترکی میں چہ مگوئیاں شروع ہوگئی ہیں اور اسے حکومت کو ایک براہ راست وارننگ سمجھا جارہا ہے۔ سیکولر اپوزیشن کا کہنا ہے کہ وہ پہلے دور کی ووٹنگ کو عدالت میں چیلنج کرے گی کیوں کہ صرف 361 ایم پی پارلیمان میں موجود تھے جبکہ کورم کے لیے 367 اراکین کی موجودگی ضروری ہے۔ دوسرے دور کی ووٹنگ بدھ کو متوقع ہے اور ترکی کی آئینی عدالت نے کہا ہے کہ اور بدھ سے قبل ہی اس بارے میں اپنا فیصلہ سنائے گی۔ اگر آئینی عدالت نے پہلے دور کی ووٹنگ کو ناقص قرار دیا تو وزیراعظم طیب اردغان کو ملک میں عام انتخابات کرانے ہوں گے۔
|