مذہب اور سیاست علیحدہ علیحدہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ترکی کے دارا لحکومت انقرہ میں لاکھوں لوگوں نے اس تصور کے حق میں مظاہرہ کیا ہے کہ مذہب اور سیاست کو علیحدہ علیحدہ رکھا جائے۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ مظاہرے کا مقصد وزیر اعظم رجب طیب اردگان کو صدارتی الیکشن سے دور رکھنا ہے۔ ترکی کے موجودہ وزیراعظم کے مخالفین کا کہنا ہے کہ وہ مذہبی ایجنڈا رکھے جو کہ ترکی کے سیکولر آئین کی خلاف ورزی ہے۔ سنیچر کو لاکھوں ترک باشندے سرخ جھنڈے اٹھائے انقرہ کی گلیوں میں نعرے لگا رہے تھے کہ ’ہم ایک امام کو صدر نہیں چاہتے‘ اور ’ترکی سیکولر ہے، سیکولر رہے گا‘۔ ترکی کے موجودہ جو سیکولر تصور کیے جاتے ہیں، سولہ مئی کو اپنے عہدے سے علحیدہ ہو رہے ہیں۔ ترکی کی پارلیمنٹ میں وزیر اعظم رجب طیب اردگان کی جماعت کو اکثریت حاصل ہے اور اگر رجب اردگان نے صدارتی امیدوار بننے کا خواہش ظاہر تو ان جسٹس اینڈ ڈیلوپمنٹ پارٹی ان کو اپنا امیدوار نامزد کر لے گی اور پارٹی کا اور شخص وزیر اعظم بن سکتا ہے۔ ادھر ترکی کی فوج کے سربراہ نے کہا ہے کہ ملک کا صدر ایسا شخص ہونا چاہیے جو ترکی کے سیکولر اصولوں پر عمل پیرا ہونے میں مخلص ہو۔ مبصرین کا کہنا کہ ترکی کی فوج کے سربراہ کا بیان وزیراعظم کو صدارتی امیدوار بننے سے روکنے کی ایک کوشش ہے۔ | اسی بارے میں ترک وزیراعظم پر تنقید کا قصہ11 May, 2006 | آس پاس ترکی کی شمولیت کے لیے مذاکرات12 June, 2006 | آس پاس ترکی: مظاہروں کے باوجود پوپ کا دورہ28 November, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||