ترک وزیراعظم پر تنقید کا قصہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جدید ترکی کے بانی کمال اتاترک کی یاد میں قائم میوزیم میں ’وِزیٹرز بُک‘میں لکھے گئے کچھ خیالات سے ایک تنازع شروع ہو گیا ہے۔ ترک وزیر اعظم رجب طیب اردگان جب یونان کے شہر سولانکی کے اس میوزیم کے دورے پر گئے تو انہیں یہ الفاظ پڑھ کر اتنا غصہ آیا کہ انہوں نے ’وِزیٹرز بُک‘ میں سے متعلقہ صفحات پھاڑ ڈالے۔ ترک وزیراعظم پر بیاسی سالہ مصنف نے ’امریکہ کا غلام ‘ ہونے کا الزام لگایا تھا اور کہا تھا کہ مسٹر اردگان کی جماعت اپنے مفاد کے لیے ترکی میں مذہبی جذبات اکسا رہی ہے۔ مصنف کا کہنا تھا کہ مذہب کو اس طرح استعمال کرنا سیکیولر ترکی کے اصولوں کے خلاف ہے۔ اطلاعات کے مطابق مصنف محمد فتحی دوردونچو اور حکومت دونوں ایک دوسرے کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا سوچ رہے ہیں۔ ترکی کے وزیر انصاف نے کہا ہے کہ مصنف کی یہ تنقید کسی غیر قانونی تنظیم کے بیان جیسی ہے اور ان کے خلاف مقدمہ چلانا مناسب ہوگا۔ دونوں جانب سے تلخ بیانات کا سلسلہ جا ری ہے۔ | اسی بارے میں ترکی کے متنازعہ قانون میں ’ترمیم‘29 December, 2005 | آس پاس ترکی میں حجاب پر پابندی کی تائید 10 November, 2005 | آس پاس ترکی کی شمولیت پراختلافات برقرار02 October, 2005 | آس پاس ترکی: خودکش حملہ آور خاتون ہلاک 07 April, 2006 | آس پاس ترکی ٹوپی کے بعد اب ترکی روٹی 07 January, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||