BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 02 October, 2005, 23:15 GMT 04:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ترکی کی شمولیت پراختلافات برقرار
ترکی
ترکی کا اسلامی تشخص اس کے یورپی یونین میں شمولیت کی راہ میں حائل ہے۔
ترکی کو یورپی یونین کا ممبر بنانے مذاکرات شروع کرنے سے پہلے یورپی ممالک کے اختلافات جاری ہیں۔

یورپی یونین ممالک کے وزرائے خارجہ کا ہنگامی اجلاس رات گئے تک جاری رہنے کے بعد سوموار تک ملتوی کر دیا کر دیا گیا۔

شیڈول کے مطابق یورپی یونین کو ترکی کے ساتھ مذاکرت سوموار سے شروع کرنے ہیں۔

آسٹریا نے ترکی کو یورپی یونین کا مکمل ممبر بنانے کی مخالفت کی ہے جس کی وجہ یورپی یونین اختلافات کا شکار ہو گئی ہے۔

یورپی یونین ابھی تک ترکی سے بات چیت کا لائحہ عمل کا تعین نہیں کر سکی ہے۔

آسٹریا نے تجویز کیا ہے کہ ترکی کو یورپی یونین میں’ شراکت دار‘ بنا لیا جائے لیکن اس کو مکمل ممبرشپ نہیں ملنی چاہیے۔

ترکی نے یورپی یونین کی مکمل رکنیت کے علاوہ کسی اور تجویز پر بات چیت سے انکار کر دیا ہے۔

ترکی کے وزیر اعظم طیب اردگان نے کہا ہے کہ یورپ کویہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ وہ ایک عالمی طاقت بننا چاہتا ہے یا عیسائی ملکوں کا ایک کلب کے طور پر رہنا چاہتا ہے۔

ترکی میں لاکھوں لوگوں نے یورپی یونین میں ان کے ملک کی شمولیت کے راستے میں روکاوٹیں کھڑی کرنے کی کوششوں کے خلاف غم و غصہ کا اظہار کیا۔

ترکی کی یورپی یونین میں شمولیت کی سب سے زیادہ حمایت برطانیہ کر رہا ہے جس کا موقف ہے کہ ترکی مسلمان دنیا کے ایک روشن مثال بن سکتا ہے۔

برطانوی وزیر خارجہ جیک سٹرا نے ترکی کو یورپی یونین کا ممبر بنانے کے حق میں دلیل ہوئے کہا کہ اگر ترکی کو یورپی یونین کا ممبر نہ بنایا گیا تو اس سے عیسائیوں او مسلمانوں میں خلیج بڑھ جائے گی۔

جیک سٹرا نے کہا کہ ترکی کو دور دھکیلنا سے دو تہذیوں کے ٹکرؤا کی باتیں کرنے والوں کو تقویت ملے گی۔

ترکی نے کہا ہے کہ وہ مزاکرات میں اسی صورت میں شامل ہو گا کہ بات چیت اس کو ممبر بنانے کے لیے کی جائے اور وہ ’ شراکت داری‘ کے لیے مزاکرات میں دلچسپی نہیں رکھتا ہے۔

یورپی یونین میں برطانیہ اور اٹلی ترکی حمایت کر رہے ہیں جبکہ آسٹریا، اور کئی دوسرے ملکوں کو ترکی کی شمولیت پر اعتراضات ہیں۔

یورپی یونین کے کچھ ممالک کا ترکی سے مطالبہ ہے کہ سلطنت عثمانیہ کے آخری سالوں میں آرمینیا میں ہونے والے قتل عام پر معافی مانگے۔

ترکی کا کہنا ہے کہ تاریخ کا غیر جانبدارنہ مطالعہ کرنے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ترکوں نے پہلی جنگ عظیم کے دوران آرمینیائی باشندوں کا قتل عام نہیں کیا تھا۔

آرمینیا کا کہنا ہے کہ ترک فوجیوں نے دس لاکھ آرمینائی باشندوں کو ہلاک کر دیا تھا۔

ترکی کا کہنا ہے کہ آرمینیائی باشندوں کو ایک متعصب جنگ کا سامنا تھا اور اسی جنگ میں بہت سےترک بھی ہلاک ہوئے۔

فرانس ترکی کو یورپی یونین کا ممبر بنانے کے حق میں ہے لیکن اس کا مطالبہ ہے کہ ترکی کو قبرض کا تنازعہ حل کرنا ہو گا کیونکہ قبرض یورپی یونین کا ممبر ہے۔

قبرص کا جنوبی حصہ جو بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ ہے، یورپی یونین کا رکن ہے تا ہم ترکی شمالی قبرص کے مسلے پر کوئی بھی مطالبات ماننے سے گریزاں ہے۔ شمالی قبرص ترکی کے قبضے میں ہے۔

اگر ترکی سے یورپین یونین میں شمولیت کی بات چیت شروع ہو گئی تو بات چیت دس سال تک چل سکتی ہے اور اس کے بعد بھی اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں ہے کہ اس کو رکنیت مل جائے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد