ترکی کے متنازعہ قانون میں ’ترمیم‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ترکی کے وزیر خارجہ نے اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ تضحیکِ ریاست کا وہ قانون جس کے تحت معروف مصنف اورہان پاموک پر مقدمہ چلایا جارہے ختم کیا جاسکتا ہے یا اس میں ترمیم کی جاسکتی ہے۔ پاموک پر اس قانون کے تحت مقدمہ اس لیے چلایا جارہا ہے کیوں کہ انہوں نے سلطنت عثمانیہ کے دور میں آرمینیائی لوگوں کی نسل کشی اور ترکی میں کردوں کے قتل عام کے بارے میں کھلے عام بات کرنے کی کوشش کی ہے۔ پاموک کا کہنا ہے کہ ان دونوں معاملات پر ترکی میں جو خاموشی پائی جاتی ہے اسے توڑنے کی ضرورت ہے۔ ترکی کے وزیر خارجہ عبداللہ گل نے کہا: ’ایک نئے قانون کی ضرورت ہوسکتی ہے۔‘ ان کے اس بیان کا مطلب یہ سمجھا جارہا ہے کہ تضحیکِ ریاست کے اس قانون میں تبدیلی کی جاسکتی ہے۔ حال ہی میں اورہان پاموک پر جب مقدمہ عدالت میں لایا گیا تو یورپی یونین کے اہلکار عدالت میں موجود تھے تا کہ اس مقدمے کی سماعت پر نظر رکھ سکیں۔ جج نے سماعت کے پہلے روز یہ کہہ کر سماعت معطل کردی کہ اسے وزارت قانون سے منظوری نہیں ملی تھی۔ ترکی کے وزیر خارجہ کا کہنا تھا: ’ہم ترکی کو ایسا ملک بنانے کی کوشش کررہے ہیں جس میں جمہوریت اور انسانی حقوق کا تحفظ بالکل ویسے ہی ہو جیسے کسی دوسرے یورپی ملک میں ہے۔‘ حالیہ دنوں میں تضحیک ریاست کا قانون دنیا کی نظروں میں رہا ہے۔ گزشتہ منگل کے روز ایک اور معاملے میں ترکی کے وکیلوں نے یورپی پارلیمان کے رکن یوست لاگیندزِک کے ایک بیان کی تفتیش شروع کردی کہ کہیں انہوں نے ملک کی فوج کی تضحیک تو نہیں کی۔ یوست لیگندزِک پر الزام ہے کہ انہوں نے کہا تھا کہ ترک فوجی کرد علیحدگی پسندوں کو لڑنے کے لیے بھڑکا رہے ہیں۔ ترک وزیر خارجہ عبداللہ گل کا کہنا ہے کہ حکومت عدالتی کارروائی میں مداخلت نہیں کرسکتی ہے لیکن اسے قانون تبدیل کرنے کا اختیار ہے۔ | اسی بارے میں ترکی میں حجاب پر پابندی کی تائید 10 November, 2005 | آس پاس قومی تضحیک: سماعت رُک گئی16 December, 2005 | آس پاس ترک وزیر اعظم کا یورپ سے شکوہ17 December, 2005 | آس پاس ای یو ترکی مذاکرات شروع04 October, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||