ای یو ترکی مذاکرات شروع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ترکی کو یورپی یونین کا ممبر بنانے کے لیے مذاکرات شروع ہو گئے ۔ ترکی کو یورپی یونین کا ممبر بننے میں دس سال سے زیادہ عرصہ لگ سکتا ہے۔ ترکی کے وزیر خارجہ عبداللہ گل سوموار کی رات کو لگسمبرگ میں پہنچے جہاں ترکی اور یورپی یونین نے بات چیت کے دائرہ کار پر دستخط کیے۔ آسٹریا نے ترکی کو مکمل رکنیت دینے پر اپنے اعتراضات واپس لے لیے ہیں جس کے بعد یورپی یونین نے ترکی کے ساتھ معاملات طے کرنے کے لیے بات چیت کا آغاز کر دیا۔ ادھر امریکہ نے کہا ہے کہ ترکی کو یورپی یونین ممبر بننے سے امن ترقی، اور خوشحالی میں اضافہ ہو گا۔ امریکی وزیر خارجہ کانڈولیزا رائس نے کہا کہ ترکی کو مکمل ممبر بنانے پر اختلافات کے وقت انہوں نے ترکی کے صدر اور وزیر خارجہ سے ٹیلیفون پر بات چیت کی۔
ترکی کے وزیرخارجہ عبداللہ گل جنہوں نے انقرہ سے روانہ ہوتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا ملک رکنیت کی بات چیت کے لیے سر اٹھا کر جا رہا ہے، جب لگسمبرگ پہنچے تو برطانوی وزیر خارجہ جیک سٹرا نے ان کا استقبال کیا۔ جیک سٹرا جنہوں نے یورپی یونین کی طرف سے ترکی کے ساتھ بات چیت کا آغاز کیا۔ جیک سٹرا نے ترکی پر زور دیا کہ وہ فوج اور عدلیہ میں اصلاحات کا عمل جاری رکھے اور کرد علاقے میں حالات کو بہتر بنائے۔ جیک سٹرا نے کہا کہ ترکی کو یورپی یونین کا حصہ بنانے کے لیے بات چیت شروع کرنا کا عمل یورپ اور پوری بین الاقوامی برادری کے لیے ایک تاریخی دن ہے۔ آسٹریا کے چانسلر وولفگینگ شوسیل نے کہا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ یورپی یونین ترکی کی شمولیت کے بارے میں لوگوں کے تحفظات کا احترام کرے۔ رائے عامہ کے حالیہ جائزوں کے مطابق تقریباً ستر فیصد آسٹریائی باشندے ترکی کی یورپی یونین میں شمولیت کے خلاف ہیں۔ ترکی نے یورپی یونین کی مکمل رکنیت کے علاوہ کسی اور تجویز پر بات چیت سے انکار کر دیا تھا۔ ترکی کی یورپی یونین میں شمولیت کی سب سے زیادہ حمایت برطانیہ کر رہا ہے جس کا موقف ہے کہ ترکی مسلمان دنیا کے ایک روشن مثال بن سکتا ہے۔ برطانوی وزیر خارجہ جیک سٹرا نے ترکی کو یورپی یونین کا ممبر بنانے کے حق میں دلیل دیتے ہوئے کہا کہ اگر ترکی کو یورپی یونین کا ممبر نہ بنایا گیا تو اس سے عیسائیوں او مسلمانوں میں خلیج بڑھ جائے گی۔ جیک سٹرا نے کہا کہ ترکی کو دور دھکیلنے سے دو تہذیوں کے ٹکراؤ کی باتیں کرنے والوں کو تقویت ملے گی۔ ترکی چار عشروں سے یورپی یونین کا ممبر بننے کی کوشش کر رہا ہے اور اس کے یورپی یونین کا حصہ بنے کی ایک درخواست کو 1989 میں مسترد بھی کیا جا چکا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||