ترکی کے حامی اور مخالف کون کون؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ترکی چار عشروں سے یورپی یونین کا ممبر بننے کی کوشش کر رہا ہے اور اس کے یورپی یونین کا حصہ بنے کی ایک درخواست کو 1989 میں مسترد بھی کیا جا چکا ہے۔ اگر پورپی یونین نے شیڈول کے مطابق ترکی سے باضابطہ بات شروع کر دی تو تب بھی ترکی 2014 سے پہلے ممبر نہیں بن سکتا۔کچھ یورپی ماہرین کے مطابق ترکی کے لیے 2020 سے پہلے یورپی یونین کا ممبر بننا ممکن نہیں ہو گا۔ یورپ کے اکثر ممالک ترکی کو دس سال بعد یورپی یونین کا ممبر بنانے کے لیے راضی ہیں بشرطیکہ کہ وہ انسانی حقوق اور فوج کے اثر روسوخ سے متعلق یورپ کے خدشات کو ختم کرئے۔ حکومتی پالیسی کے برعکس یورپ کے اکثر ملکوں میں عوام کی اکثریت ترکی کو یورپی یونین کا ممبر بنانے کے حق میں نہیں ہے۔ یورپی عوام میں ترکی کو ممبر نہ بنانے کی وجوہات میں تہذہبی فرق، ترکی کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی (ستر ملین) ، اور ترکی کی غربت سب سے اہم ہیں۔ جرمنی ، فرانس اور آسٹریا کے عوام خصوصاً ترکی کی یورپی یونین میں شمولیت کے خلاف ہیں۔ عوامی رائے کے سروے کے مطابق جرمنی کی پچھتر فیصد آبادی ترکی کی یورپی یونین میں داخلے کی مخالف ہے۔ ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتیں میں سے شوشل ڈیموکریٹک ترکی کے یورپی یونین میں داخلے کے حق میں ہے جبکہ کرسچیئن ڈیموکریٹک ترکی کی مکمل ممبرشپ کی مخالف ہے اور یورپی یونین کے لیڈروں سے کہا ہے کہ وہ ترکی کی زیادہ حوصلہ افزائی نہ کریں۔ یورپ سب سے مسلمان آبادی والا ملک فرانس ترکی کے یورپی یونین میں داخلے کا سرکاری طور پر تو حمایتی ہے لیکن اس کو ترکی کے بارے اعتراضاف دوسرے یورپی ممالک سے زیادہ ہیں۔ فرانس کے وزیر اعظم ولی پاں کا کہنا ہے کہ ترکی کو یورپی یونین کا ممبر بننے کے لیے جنوبی قبرص کو تسلیم کرنا ہو گا۔ فرانس کے وزیر داخلہ اور فرانس کے اگلے ممکنہ صدر نکولس سرکوزی جو حکمران جماعت کے سربراہ ہیں ، ترکی کو یورپی یونین کا ممبر بنانے کے مخالف ہیں۔فرانس کی آبادی کا اسی فیصد حصہ ترکی کو یورپی یونین کا ممبر بنانے کا مخالف ہے۔ فرانس کے کئی سیاسی تجزیہ نگاروں کو ترکی کے حکمرانوں سے نہیں بلکہ ان کو اناتولیائی باشندوں سے ہے جو عادات و اطوار میں یورپی نہیں ہیں۔ فرانس کی حکومت نے ترکی کے یورپی یونین کے ساتھ مزاکرت کے خاتمے پر ریفرنڈم کرانے کا وعدہ کر رکھا ہے۔ آسٹریا کی بیاسی فیصد آبادی ترکی کو یورپی یونین میں شامل کرنے کی مخالف ہے۔ سلطنت عثمانیہ کے دور میں ترکی نے آسٹریا کو فتح کرنے کی ناکام کوشش کی تھی۔ برطانیہ ترکی کا یورپی یونین میں شمولیت کا حمایتی ہے اور وزیر خارجہ جیک سٹرا نے کہا ہے کہ ترکی دوسرے مسلمان ملکوں کے لیے ایک روشن مثال ہو گا۔ اٹلی کی حکومت ترکی کو یورپی یونین کا ممبر بنانے کی حمایتی ہے اور اس کا موقف ہے کہ ترکی کو ایشیا سے یورپ میں کھینچ کا لانے کا بہترین موقع ہے۔ اٹلی کی عوام ترکی کو یورپی یونین کا ممبر بنانے کی مخالف نہیں ہے لیکن ترکی کے حمایتوں کی تعداد چوالیس فیصد ہے۔ پولینڈ یورپی یونین کا 2004 میں ممبر بنا ہے لیکن اس کی آبادی کی اکثریت ترکی کو یورپی یونین کا ممبر دیکھنا چاہتی ہے۔ پولینڈ حکام کے خیال ہے کہ ترکی کے یورپی یونین کا ممبر بننے سے یورپی یونین میں امریکہ کے حمایتوں میں اضافہ ہوگا اور یورپ کا مشرق وسطیٰ اور دوسرے اسلامی ملکوں پر اثر و رسوخ بڑھے گا۔ سپین کے عوام کی اکثریت ترکی کے حق میں ہے۔ سپین کی حکومت نے کچھ مہینے پہلے تجویز کیا تھا کہ ترکی کی یورپی یونین میں شمولیت کے لیے اکتوبر میں ہونے والی بات چیت کسی مناسب وقت تک ملتوی کر دیا جانا چاہیے ۔ چار سو سال تک سلطنت عثمانیہ کا قبضے میں رہنے والا ملک یونان بھی ترکی کی یورپی یونین میں شمولیت کے حق میں ہے لیکن بہت لوگ آج بھی استنبول کو یونانی شہر گردانتے ہیں۔ یونان کی حکومت اور عوام ترکی کو یونین کا ممبربنانے کے بارے میں متضاد رائے رکھتے ہیں۔یونانی عوام کا صرف پچیس فیصد حصہ ترکی کو یورپی یونین کا حصہ دیکھنا چاہتے ہیں لیکن یونان کی حکومت ترکی کی کھلے عام حمایت کر رہی ہے۔ ہنگری جو سولویں اور ستریویں صدر میں ڈیڑھ سو سال تک سلطنت عثمانیہ کے قبضے میں رہا ہے، ترکی کے یورپی یونین میں داخلے پر کوئی اعتراض نہیں ہے اور ہنگری کے اسی فیصد عوام ترکی کے حق میں ہیں۔ ڈنمارک اور سویڈن کے عوام کی اکثریت ترکی کی مخالف ہے لیکن حکومتیں کی پالیسی عوام کی امنگوں سے کچھ مختلف ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||