ترکی: بلند ایجوت کا انتقال | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ترکی کے سابق وزیر اعظم بلند ایجوت کا اکاسی برس کی عمر میں انتقال ہو گیا ہے۔ وہ چھ ماہ سے کومے میں تھے۔ ایجوت چالیس کے سیاسی کیریئر میں پانچ بار ترکی کے وزیر اعظم بنے۔ انہیں سن دو ہزار دو میں اس وقت اقتدار سے الگ کیا گیا تھا جب انہوں نے صحت کی خرابی کی بنیاد پر مستعفی ہونے سے انکار کر دیا تھا۔ ان کو اس وقت ترکی میں اقتصادی مشکلات کے لیے ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا۔ ایجوت نے انیس سو چوہتر میں قبرص میں ترک اقلیت کے تحفظ کے لیے جزیرے پر حملے کا حکم دیا تھا جس کے بعد ہونے والی قبرص کی تقسیم آج بھی قائم ہے۔ ایجوت نے ترکی کو یورپی یونین کی رکنیت اور مغرب کے قریب لانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ ایجوت سوشلسٹ تھے اور انہوں ملک میں مذہبی جماعتوں کی سخت مخالفت کی تھی۔ انہوں نے انیس سو چوہتر میں ترکی میں پہلے بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے وزیر اعظم کی حیثیت سے عہدہ سنبھالا تھا لیکن اپنے سماجی جمہوری نظریات کے باوجود وہ انتہائی قوم پرست تھے۔ قبرص پر حملے کے بعد ترکی میں انہیں ہیرو کا درجہ مِل گیا تھا لیکن سال ختم ہونے سے پہلے ان کی مخلوط حکومت ٹوٹ گئی تھی اور وہ اقتدار سے ہٹ گئے۔ انیس سو اسی کی دہائی میں فوجی بغاوت کے بعد انہیں قید میں بھی رکھا گیا۔ ان کے خلاف دس سال تک سیاست میں حصہ لینے پر پابندی رہی جس دوران انہوں نے ایک اعتدال پسند بزرگ سیاستداں کی شہرت حاصل کر لی۔ انیس سو نناوے میں ان کے دورِ اقتدار میں ترکی کو یورپی یونین کی رکنیت کے امیدوار کے طور پر تسلیم کر لیا گیا۔ سن دو ہزار دو میں ترکی میں کرنسی کی قیمت میں کمی کے بعد حالات اتنے خراب ہو گئے کہ معیشت کو بچانے کے لیے آئی ایم ایف کی مدد حاصل کرنا پڑی۔ بلند ایجوت نے انتخابات میں ناکامی کے بعد سن دو ہزار چار میں فعال سیاست سے علیحدگی اختیار کر لی۔ | اسی بارے میں شاہ فہد انتقال کر گئے01 August, 2005 | آس پاس یاسر عرفات انتقال کرگئے11 November, 2004 | آس پاس کمبوڈیا: تاموک انتقال کر گئے21 July, 2006 | آس پاس پی ڈبلیو بوتھا کا انتقال ہو گیا 01 November, 2006 | آس پاس زاؤ: اصلاح پسند کمیونسٹ رہنما17 January, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||