BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 21 July, 2006, 10:56 GMT 15:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کمبوڈیا: تاموک انتقال کر گئے
تاموک کو ’قصائی‘ کے نام سے پکارا جاتا تھا
کمبوڈیا کی کھیمرروژ تحریک کے رہنما تاموک فنوم پین میں اسی سال کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔

انہیں ’قصائی‘ کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ وہ انیس سو ستر کی دہائی میں فوجی کمانڈر رہ چکے ہیں۔ انسانی نسل کشی اور قتل و غارت گری کے بہت سے واقعات سے ان کا براہ راست تعلق رہا۔

کمبوڈیا میں کھیمرروژ تحریک کے دوران تقریبًا سترہ لاکھ افراد ہلاک ہوئے تھے اور ان سب کی اموات بیماریوں، بھوک اور پھانسی کی وجہ سے ہوئیں۔

تاموک کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ان افراد میں سے ایک ہیں جن سے بڑے پیمانے پر انسانی نسل کشی اور جنگی جرائم سر زد ہوئے۔ اس سلسلے میں اقوام متحدہ کی سرپرستی میں چلائے جانے والے ایک مقدمے کی سماعت آئندہ سال کی جائے گی۔

وہ کھیمرروژ تحریک کے بچ جانے قیدی کمانڈروں میں سے ایک تھے۔ اس دور کے بچ جانے والے افراد میں سے کئی انتہائی بیمار ہیں۔

کچھ تجـزیہ نگاروں نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ اس سلسلے میں چلائے جانے والا مقدمہ اتنی تاخیر سے شروع کیا گیا ہے کہ اب اس سے انصاف کی امید ہی بے معنی ہے۔

جمعہ کو فنوم پین میں واقع اس ہسپتال، جہاں تاموک زیر علاج تھے، کے فوجی ڈاکٹر نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ تاموک جمعہ کی صبح انتقال کر گئے۔ وہ بہت ضعیف ہو چکے تھےاور وہ طبعی موت مرے۔ ان کی صحت بہت خراب تھی اور پھپھڑے جواب دے چکے تھے۔ انتقال کے وقت تاموک کی عمر اسی سال تھی۔ وہ گزشتہ ایک ماہ سے سخت بیمار تھے۔ انہیں بلند فشار خون یا ہائی بلڈ پریشر اور ٹی بی تھی اور اس کی وجہ سے ایک ہفتہ قبل وہ کوما میں چلے گئے تھے۔

ان کے بھیتجے نے ہسپتال کے باہر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ ’ہمیں ان کی موت پر افسوس ہے‘۔

فنوم پین سے بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ کھیمرروژ کے رہنماؤں میں تاموک کو سب سے وحشی خیال کیا جاتا تھا۔

کھیمرروژ کے اقتدار میں آنے سے قبل ہی انہیں نسل کشی اور اپنے مخالفوں کو بے دریغ قتل کرنے کے حوالے سے جانا جاتا تھا۔

انیس سو چوہتر میں سابق شاہی دارالحکومت اوڈونگ میں فوج کے انچارج کی حیثیت سے انہوں نے بڑی تباہی پھیلائی۔ انہو ں نے اوڈنوگ کے شہریوں کو علاقہ سے نکال باہر کرنے کے علاوہ سرکاری اور فوجی حکام کو قتل کیا۔

بعد ازاں کھیمرروژ تحریک اندورنی اختلافات کا شکار ہو گئی اور ان اختلافات کے پیچھے بھی ٹاموک کا ہی ہاتھ تھا۔ 1997 میں وہ تنظیم کے سربراہ بنے لیکن انہیں دو سال بعد ہی گرفتار کر لیا گیا اور انہوں نے اپنی باقی زندگی جیل میں گزاری۔

تاموک کے انتقال کے بعد ان کے جیل کے ساتھی اور کھیمرروژ تحریک کے سابق سربراہ کینگ خیک ایوی اکیلے رہ گئے ہیں۔

کمبوڈین عوام کی اکثریت کو اس بات کا خدشہ ہے کہ انہیں انصاف نہیں مل سکے گا کیونکہ کھیمرروژ تحریک کے اراکین مقدمے کا سامنا کیے بغیر ہی اس دنیا سے جا رہے ہیں۔

کچھ لوگوں کو ہو سکتا ہے کہ تاموک کے انتقال کی خبر سے خوشی ہوئی ہو لیکن کھیمرروژ تحریک کے ظلم کا نشانہ بننے والے متاثرین جو ایک طویل عرصے سے انصاف کے منتظر ہیں ان کے لیئے یہ ایک انتہائی درد ناک خبر ہے۔
ڈائریکٹر یوک چانگ

اس ماہ کے آغاز میں کمبوڈیا اور دوسری اقوام سے تعلق رکھنے والے ججوں اور وکلاء نے حلف اٹھایا تھا۔ کھیمرروژ کے رہنماؤں کے خلاف اقوام متحدہ کے تحت چلنے والے اس مقدمے کی کارروائی دو ہزار سات میں شروع ہو گی۔

مقدمے کی کارروائی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ مقدمے میں اصل حقائق سے پردہ اٹھانے والے اہم رکن کا انتقال ہو گیا ہے۔

کھیمرروژ تحریک کی نسل کشی اور قتل عام کی آزادنہ پیمانے پر تحقیق کرنے والے ادارے ڈاکیومیشن سینٹر آف کمبوڈیا کے ڈائریکٹر یوک چانگ کا کہنا ہے کہ تاموک کے انتقال کی خبر انتہائی درد ناک ہے۔

ڈائریکٹر یوک چانگ نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ کچھ لوگوں کو ہو سکتا ہے کہ اس خبر سے خوشی ہوئی ہو لیکن کھیمرروژ تحریک کے ظلم کا نشانہ بننے والے متاثرین جو ایک طویل عرصے سے انصاف کے منتظر ہیں ان کے لیئے یہ ایک انتہائی درد ناک خبر ہے۔

اسی بارے میں
تھائی کیمبوڈیا تنازع
30.01.2003 | صفحۂ اول
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد