پی ڈبلیو بوتھا کا انتقال ہو گیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوبی افریقہ کے سابق صدر پی ڈبلیو بوتھا انتقال کر گئے ہیں۔ ان کی عمر 90 سال تھی۔ پی ڈبل یو بوتھا 1978 سے لے کر 1989 تک ملک کے صدر رہے جو کہ نسلی تفریق کے نظام کے خلاف کشمکس کے عروج کا زمانہ تھا۔ بوتھا کو 1989 میں اسعفی دینا پڑا۔ ان کے بعد بننے والے سفید فام رہنما ایف ڈبلیو کلرک کے دور میں اپارتھائڈ یعنی نسلی تفریق کے اس نظام کو ختم کیا گیا اور پورے ملک میں انتخابات کرائے گئے۔ بوتھا اپنے دور اقتدار میں نیلسن مینڈیلہ اور اے این سی کے دوسرے کارکنوں کو رہا کرنے سے مسلسل انکار کرتے رہے۔ انیس سو نوے کے عشرے میں وہ جنوبی افریقہ کی ’ٹروتھ اینڈ ری کنسلیئشن‘ کمیشن کے سامنے پیش ہوئے۔ کمیشن کے مطابق بوتھا انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے مجرم تھے۔ تاہم سابق صدر ہمیشہ اپنے موقف اور فیصلوں کا دفاع کرتے رہے ۔ اپنی حالیہ سالگرہ کے موقع پر دیے گئے ایک انٹرویو میں بھی انہوں نے کہا تھا کہ ان کے دور اقتدار میں ان کے صدارت میں ملک چلانے کے طریقے مناصب تھے ۔ | اسی بارے میں 30 افریقی ممالک کی کانفرنس 04 July, 2005 | آس پاس افریقہ: سفیدفاموں سے زمینوں کی واپسی23 September, 2005 | آس پاس ’افریقہ کو غربت کے خطرے کا سامنا‘07 October, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||