افریقہ: سفیدفاموں سے زمینوں کی واپسی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوبی افریقہ میں پہلی مرتبہ ایک سفید فام کسان کو زمین کی دوبارہ تقسیم کے منصوبے کے تحت اپنی زمین فروخت کرنے پر مجبور کیا جائے گا۔ اس بات کا اعلان جنوبی افریقہ میں قائم کمیشن برائے زمینی حقوق نے کیا ہے۔ یہ کمیشن سیاہ فاموں سے چھینی گئی زمین کی واپسی کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ نسلی عصبیت کے قوانین کی وجہ سے جنوبی افریقہ کی 80 فیصد زرعی زمین سفید فام افریقیوں کی ملکیت ہے جو کہ آبادی کا صرف 10 فیصد ہیں اور جنوبی افریقہ کی حکومت اس میں سے ایک تہائی زمین سنہ 2014 تک سیاہ فاموں کو واپس کرنا چاہتی ہے۔ اس کمیشن کے ایک افسر نے بتایا کہ زمین کی قیمت کے سلسلے میں سفید فام کسان سے مذاکرات ناکام ہو گئے ہیں۔ حکومت نے ہینس وسر نامی کسان کو اس کے پانچ سو ہیکٹر رقبے پر پھیلے فارم کے عوض دو لاکھ پچھہتر ہزار امریکی ڈالر کے برابر رقم دینے کی پیشکش کی تھی لیکن سفید فام کسان کا کہنا ہے کہ اس فارم کی اصل قیمت اس رقم سے دو گنی ہے۔ اس کے بعد کمیشن نے جمعرات کو کہا کہ جنوبی افریقہ کے شمال مغربی صوبے کے اس فارم مالک ہینس وسر کے نام بے دخلی کا نوٹس جاری کیا جائے گا۔ مذکورہ کسان نےاس فروخت کے عمل کا مقابلہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ہینس وسر نامی اس کسان نے جنوبی افریقہ کے خبر رساں ادارے ساپا کو بتایا کہ وہ اس فیصلے کے خلاف عدالت میں جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ اگر عدالت ہی میری آخری منزل ہے تو میں وہاں جاؤں گا‘۔ مقامی لینڈ کلیم کمیشن کے کمشنر بلیسنگ پھیلہ کا کہنا ہے کہ فارم کی قرقی آخری حربہ ہوگا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جنوبی افریقہ میں زمینی اصلاحات میں تیزی لانے کی ضرورت ہے ورنہ مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ حکومت کا دعوٰی ہے کہ اس فارم کی زمین ہینس وسر کے والد نے 1968 میں طاقت کے زور پر سیاہ فام کسانوں سے خریدی تھی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||