 |  نسلیت پسند زمانے میں سینکڑوں افراد لاپتا ہو گئے تھے |
جنوبی افریقہ میں تفتیش کاروں نے گمنام قبروں سے لاشوں کو نکالنے کا کام شروع کر دیا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ نسلیت پسندی کے دور میں لاپتا ہو جانے والے سینکڑوں افراد پر اصل میں کیا گزری تھی؟ اس کام کا آغاز کو ازولو ناتل صوبے میں دو لاشوں کی کھدائی سے کیا گیا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا یہ نسلیت پسندی کے مخلاف وہ کارکن تھے جنہیں اطلاعات کے مطابق انیس سو اٹھاسی میں پولیس کے ساتھ ہونے والی فائرنگ میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔ اس چھان بین کے لیے خصوصی ٹیموں نے اب تک بیس سے زائد قبروں کی نشاندہی کی ہے۔ یہ خصوصی ٹیمیں حقائق کی چھان بین کرنے والے ایک کمیشن کی رپورٹ کے بعد تشکیل دیئے گئے تھے۔ جنوبی افریقہ سے بی بی سی کے نمائندے کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات اس واقعہ کا شکار ہوجانے والے افراد کے خاندان والوں کے دکھ کو ختم کرنے میں مددگار ہوں گے۔ |