پاپائے روم بینیڈکٹ مسجد میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاپائے روم بینیڈکٹ نے مسلمانوں اور عسیائیوں کے تعلقات کو بہتر کرنے کے لیے استنبول کی تاریخی سلطان محمد مسجد کا دورہ کیا ہے۔ پوپ بینیڈکٹ نے استنبول میں سلطان محمد مسجد جسے نیلی مسجد کے طور پر بھی جانا جاتا ہے، کا دورہ کیا۔ پوپ نے مسجد کے دورے کے دوران دو منٹ تک خاموش رہ کر عبادت کی۔ پوپ نے مسجد میں داخل ہونے سے پہلے اپنے جوتے اتارے۔ مسجد کےدورے کے دوران پاپائے روم بینیڈکٹ کے ساتھ استنبول کے مفتی اور سلطان محمد مسجد کے امام موجود تھے۔ تاریخ میں یہ دوسرا واقعہ ہے جب کسی پوپ نے مسجد کا دورہ کیا ہے۔ اس سے پہلے پوپ جان پال نے دورہ شام کے دوران دمشق کی ایک مسجد کا دورہ کیا تھا۔ پوپ بینیڈکٹ سلطان محمد مسجد کےدورے سے پہلے قریب ہی واقع صوفیہ میوزیم بھی گئے۔ پندرہویں صدی میں قسطنطنیہ (استنبول) کی فتح کے وقت صوفیہ ایک گرجا گھر تھا جسےمسلمانوں نے مسجد میں تبدیل کر دیا ۔ لیکن بعد اسے میوزیم میں بدل دیا گیا۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ اگر پاپائے روم نے صوفیہ میوزیم کے دورے کے دوارن کوئی مذہبی اشارہ کیا تو اس ایک نیا تنازعہ جنم لے سکتا ہے لیکن پوپ نے صوفیہ میوزیم کے دوران مذہبی اشاروں سے پرہیز کیا۔ پوپ بینیڈکٹ تیس منٹ تک صوفیہ میوزیم میں رہے اور اس کے بعد سلطان محمد مسجد چلے گئے۔ پوپ بینیڈکٹ نے اپنے دورہ ترکی میں مسلمانوں اور عیسائیوں کے تعلقات کو بہتر کرنے کی کوشش کی ہے۔ دارالحکومت انقرہ میں ایک تقریر میں پوپ نے کہا کہ عیسائیوں اور مسلمانوں میں گفت و شنید ہونی چاہۓ جس میں آپس کے اختلافات کی قدر کی جائے اور مشترک باتوں کا احساس ہو۔ پوپ بینیڈکٹ نے کہا کہ عیسائی اور مسلمان دونوں کی روح میں ایک خدا پر ایمان شامل ہے اور دونوں کا شجرۂ نسب حضرت ابراہیم سے جاکر مل جاتا ہے۔ یہ انسانی اور روحانی تعلق اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ایسا مشترک راستہ تلاش کیا جائے جو دور حاضر کے رہنے والوں کے لیے بنیادی اقدار کی تلاش کی طرف جاتا ہو۔ یہ مصالحانہ بیان ان کی ستمبر کی اس تقریر کے بعد آیا ہے جسے اکثر مسلمانوں نے اسلام پر حملہ تصور کیا تھا۔ اسی بات کو پیش نظر رکھتے ہوئے ترکی میں اعلیٰ ترین مسلم رہنما علی بردا کوگلو نے مسلمانوں سے نفرت کے بڑھتے ہوئے رجحان سے خبردار کیا اور کہا کہ مذہبی رہنماؤں کو بین الاقوامی کشیدگی میں حصہ لینے سے صاف انکار کرنا چاہیے۔
پوپ بننے کے بعد کسی بھی اسلامی ملک کا ان کا پہلا دورہ ہے اور اس کے خلاف ترکی میں شدید احتجاج کیا گیا ہے۔ ترکی پہنچنے پر ملک کے وزیر اعظم رجپ طیب اردگان نے ان کا استقبال کیا۔ ترکی آمد پر پوپ اور وزیر اعظم اردگان کے درمیان بیس منٹ کی ملاقات ہوئی جس کا واضح طور پر مقصد کشیدگی کم کرنا اور دورے کو مثبت رنگ دینا تھا۔ پوپ کے دورے کی مخالفت کا سبب ستمبر میں جرمنی کے دورے کے دوران ان کا وہ لیکچر تھا جس اسلام پر تنقید سمجھا گیا کہا گیا کہ انہوں نے اسلام کو ایک ’پرتشدد مذہب‘ کہا تھا۔ ترک وزیرِ اعظم کے ساتھ ملاقات کے دوران پوپ نے ترکی کی یورپی یونین میں شمولیت کی حمایت کی۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ترکی کے یورپی اتحاد میں شمولیت کے سلسلے میں جاری مذاکرات نازک مرحلے پر ہیں اور مسیحی مغرب کا ترکی کی جانب رویہ بہت حساس ہے۔ ان حالات میں پوپ کا ترکی کا دورہ مغرب کی تشویش کے تناظر میں اہم ہے۔ | اسی بارے میں پوپ کا ترکی کا دورہ شروع28 November, 2006 | آس پاس ترکی: مظاہروں کے باوجود پوپ کا دورہ28 November, 2006 | آس پاس ترکی میں پوپ کے خلاف مظاہرہ26 November, 2006 | آس پاس ’پوپ کا بیان ناکافی ہے‘ 16 September, 2006 | آس پاس معافی مانگنے پر پوپ کی تعریف 16 September, 2006 | آس پاس پوپ نے ذاتی طور پر معافی مانگ لی17 September, 2006 | آس پاس معذرت غُصّہ ختم کرنے میں ناکام18 September, 2006 | آس پاس کیاپوپ غلطی کرسکتے ہیں؟19 September, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||