کیاپوپ غلطی کرسکتے ہیں؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کیتھولک فرقے کے روحانی پیشوا پوپ بینڈکٹ کے پیغمبرِ اسلام کے بارے میں متنازعہ جملے پر مسلم دنیا سے افسوس کے اظہار کوعیسائی مذہبی حلقے پوپ کی طرف سے ایسی معافی قرار دے رہے ہیں جس کی مثال نہیں ملتی۔ مذہبی حلقوں نے یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کتھولک فرقے کے پیرو کار جس شخص کو خطاسے مبرا تصور کرتے ہیں کس طرح غلطی کا مرتکب ہو سکتا ہے۔ کیتھولک فرقے کے پیرو کاروں کا ایمان ہے کہ بشپ آف روم چند مخصوص معاملات کے علاوہ خطا سے مبرا ہوتا ہے۔ اس عقیدے کے مطابق ایسے معاملات میں جن کا تعلق لوگوں کے ایمان سے ہوتا ہے اس میں پوپ خطا کا مرتکب نہیں ہو سکتا۔ البتہ پوپ اگر کسی معاملے پر ذاتی رائے ظاہر کریں یا کوئی تاریخی حوالہ دیں تو خطاسے بریت کا اصول لاگو نہیں ہوتا۔
پوپ کی خطا سے بریت کے عقیدے پر عیسائی حلقوں میں صدیوں سے بحث جاری ہے اور اس کی بنیاد یہ نظریہ ہے کہ پوپ حضرت عیسیٰ کے حواریوں کے پیغام کے امین ہیں۔ کیتھولک فرقے کے مورخ پیٹر سٹینفورڈ کے مطابق خطا سے مبرا ہونے کا وصف اس لیئے پوپ سے منسلک نہیں کیا گیا کہ یہ صرف خدا ہی کی صفت ہے۔ یہ اعتراف کیا گیا ہے کہ تاریخ میں کئی پوپ ایسے گزرے ہیں جن کے ذاتی رویوں اور فیصلوں کی وجہ سے پوپ کے مقدس منصب کی سبکی ہوئی۔ انیسویں صدی تک اس تصور کو تقویت نہیں مل سکی اور باقاعدہ طور پر اس بات کا اعتراف نہیں کیا گیا کہ پوپ کی ذات غلطی سے مبرا ہے۔ پر بعد میں اس بات پر عمومی اتفاق ہو گیا کہ پوپ جب چرچ کے سربراہ کی حیثیت سے بات کرتے ہیں تو ان پر خطا سے بریت کے اصول کا اطلاق ہوتا ہے۔ تاہم روز مرہ کے معاملات میں پوپ کے فرمودات پر اس اصول یا تصور کا اطلاق نہیں ہوتا۔ پوپ کے ایسے فرمودات جو خطا سے بریت کے زمرے میں آتے ہوں بہت ہی کم ہوتے ہیں۔ انیس سو پچاس میں پوپ پئیس نے اعلان کیا تھا کہ حضرت مریم کے جنت میں داخل ہونے پر یقین ایمان کا ایک لازمی جز ہے۔ والش کے مطابق پوپ جان پال دوئم خطا سے بریت کے حق کو استعمال کرتے ہوئے عورت کی امامت کو خارج از امکان قرار دینا چاہتے تھے لیکن ان کومشورہ دیا گیا کہ وہ ایسا نہ کریں۔ ان کے اس فرمان کے باوجود کہ کیتھولک خواتین کی امامت کے مسئلہ پر بحث نہ کریں یہ مکمن نہیں کہ مستقبل میں اس مسئلہ پر دوبار بحث نہ چھڑ جائے۔ اس طرح والش کے خیال میں پاپ کی امتناع حمل کے بارے میں تعلیمات بھی خطا سے بریت کے زمرے میں نہیں آتیں۔ پوپ پال چہارم کا امتناع حمل کے خلاف انیس سو اڑسٹھ کا مراسلہ پوپ کے خطا سے بریت کے تصور کے تحت جاری کیا گیا تھا۔ والش کا کہنا ہے کہ خطا سے بریت کا حق استعمال کرتے ہوئے اعلانات مراسلوں کی صورت میں جاری نہیں کیئے جاتے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||