BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 17 September, 2006, 13:41 GMT 18:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پوپ کے الفاظ پر سب حیران ہیں

پوپ بینیڈکٹ
ویٹیکن میں پوپ کا پہلا سال کسی تنازع کے بغیر گزرا
اسلام کے بارے میں پوپ کے الفاظ پر پیدا ہونے والی بے چینی اور احتجاج نے ویٹیکن کے اندر اور باہر سب کو حیران اور کیتھولکوں کو ایک ناقابلِ صورتِ حال کےروبرو کر دیا ہے۔


پوپ ششدہم کے معاون اس بات پر مایوس ہیں کہ ایک ایسا حوالہ جو فلسفیانہ دلیل کی توجیح کے لیے تھا مسلمانوں میں اس قدر ناراضی کو بھڑکا سکتا ہے۔

لیکن کچھ اوروں کی نظر میں اس معاملے سے وہ تشویش بھی اجاگر ہوتی ہے جو اسلامی دنیا اور چرچ کے درمیان تعلقات کے بارے میں پوپ کے رویّے سے منعکس ہوئی ہے۔

اگرچہ ویٹیکن میں پوپ کا پہلا سال کسی تنازع کے بغیر گزرا ہے لیکن اس دوران وہ انتہائی خاموشی سے ویٹیکن کے انتظامی ڈھانچے میں اہم تبدیلیوں کی منصوبہ بندی کرتے رہے۔

جوزف رتزنگر جب 2005 میں جان پال دوم کی جگہ منتخب ہوئے تو تصور کیا جا رہا تھا کہ وہ اپنے پیش رو کی پالیسیوں کو ہی آگے بڑھائیں گے۔

چرچ کے بہت سارے معاملات پر دونوں میں مکمل ہم آہنگی تھی اسی لیئے یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ پولش پوپ کی طرح پوپ بینیڈکٹ XVI یا ششدہم چرچ کی روایتی تعلیمات ہی کی پاسداری کریں گے۔

اہم تبدیلیوں کی منصوبہ بندی
 اگرچہ ویٹیکن میں پوپ کا پہلا سال کسی تنازع کے بغیر گزرا ہے لیکن اس دوران وہ انتہائی خاموشی سے ویٹیکن کے انتظامی ڈھانچے میں اہم تبدیلیوں کی منصوبہ بندی کرتے رہے

لیکن جہاں تک اہم پالیسیوں کا تعلق ہے ویٹیکن پر قریبی نظر رکھنے والوں نے بینیڈکٹ ششدہم اور ان کے پیشرو کے خیالات میں فرق محسوس کیا ہے۔ جیسے کہ اسلام کے بارے میں۔

جان پال دوم نے 2001 میں دوسرے مذاہب سے قریب ہونے کا سلسلہ شروع کیا اور اسی سال جب شام کا دورے کے دوران وہ ایک مسجد میں گئے تو وہ پہلے پوپ تھے جس نے کسی مسجد میں قدم رکھا تھا۔

ان کا یہ عمل دونوں مذاہب کے دوران صدیوں سے موجود کشاکش اور شکوک کو دور کرنے کی ایک کوشش تھا۔

بلاشبہ بینیڈکٹ ششدہم اسلام اور عیسائیت میں بہتر تعلقات کے خواہاں ہیں لیکن اس کی بھی ایک اہم غرض ہے۔

مختصراً اسے ’ایک دو طرفہ عمل‘ کہا جا سکتا ہے۔ یعنی یہ اگر مسلمان یہ چاہتے ہیں کہ وہ مغرب میں مذہبی آزادی سے لطف اندوز ہو سکیں تو عیسائیوں کو بھی اسلامی ممالک میں کسی خوف و خطرے کے بغیر مساوی حقوق حاصل ہونے چاہیّں۔

اسلام کے حوالے سے ویٹیکن کے رویّے میں سختی کا پہلا اظہار اس اقدام سے ہوا کہ آرچ بشپ مائیکل فش جیرالڈ کو ان کےعہدے سے ہٹا دیا گیا۔

آرچ بشپ مائیکل فش جیرالڈ
آرچ بشپ مائیکل فش جیرالڈ کو ان کےعہدے سے ہٹا دیا گیا

برطانیہ میں پیدا ہونے والے فش جیرالڈ ویٹیکن میں اس شعبے کے نگراں تھے جو دوسرے مذاہب سے بات چیت کو فروغ دینے پر کام کر رہا تھا۔ وہ نہ صرف عربوں کے معاملات کے ایک ممتاز مفکر ہیں بلکہ انہیں عالمِ اسلام کے امور کا بھی ماہر تصور کیا جاتا ہے۔

بینیڈکٹ ششدہم کی جانب سے انہیں ویٹیکن کے منصب سے ہٹانے اور مصر میں مستقل سفارتی مندوب مقرر کرنے کے فیصلے کو عام طور پر جیرالڈ کی تنزلی سے تعبیر کیا گیا۔

کچھ لوگوں نے تو اس فیصلے میں مضمر دانشمندی پر حیرت کا اظہار کیا۔

ویٹیکن کے طریقۂ کار پر حکم تصور کیئے جانے والے اور سوسائٹی برائے عیسٰی کے رکن فادر تھامس ریسی نے گزشتہ اپریل میں بی بی سی ویب سائٹ کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا ’آرچ بشپ فش جیرالڈ کی جلاوطنی پوپ کا اب تک کا ایک بدترین فیصلہ ہے‘۔

کیا ویٹیکن میں کوئئ بھی ایسا نہیں؟
 کیا ویٹیکن میں ایک بھی ایسا آدمی نہیں ہے جو یہ دیکھ سکتا کہ پوپ کے الفاظ یا حوالے کو سیاق و سباق سے الگ کر کے بھی دیکھا جا سکتا ہے اور اس کا کیا ردِ عمل ہو سکتا ہے؟

ان کا کہنا تھا کہ ’اگر ویٹیکن مسلمانوں کے بارے میں کوئی احمقانہ بات کرے گا تو قطع نظر اس کے کہ مشرقِ وسطٰی میں کیا ہو گا، افریقہ میں لوگ جان سے جائیں گے اور انڈونیشیا میں بھی چرچ جلائے جائیں گے‘۔

فادر تھامس ریسی نے کہا کہ ’مناسب یہی ہے کہ پوپ فش جیرالڈ کو اپنے قریب رکھیں‘۔

فادر تھامس ریسی کا انتباہ اب الہامی سا محسوس ہوتی ہے۔

لیکن کیا ویٹیکن میں ایک بھی ایسا آدمی نہیں ہے جو یہ دیکھ سکتا کہ پوپ کے الفاظ یا حوالے کو سیاق و سباق سے الگ کر کے بھی دیکھا جا سکتا ہے اور اس کا کیا ردِ عمل ہو سکتا ہے؟

امریکہ میں 11/9 کے دہشت گردانہ حملوں اور عراق کو مفتوح بنائے جانے کے بعد کوئی بھی عیسائیت اور اسلام کے مابین بہتر مفاہمت کی ضرورت کے ناگزیر ہونے سے انکار نہیں کر سکتا۔

مسلمان اپنے مذہب کے بارے میں کتنے حساس ہیں اس کا اظہار گزشتہ سال ایک ڈچ اخبار میں پیغمبرِ اسلام کے بارے میں کارٹونوں کی اشاعت پر سامنے سالے ردِ عمل سے ہی واضح ہو چکا ہے۔

بعد ازاں ان خاکوں کی دوسرے اخباروں میں اشاعت سے مسلمان اقوام جس طرح کے پُر تشدد واقعات بلوے ہوئے وہ کسی سے چھپے ہوئے نہیں ہیں۔

پوپ بینیڈکٹ ’حقیقی مکالمے کے ذریعے افہام و تفہیم‘ کو مذہبی رہنماؤں کی ذمہ داری قرار دینے کی بات کرتے ہیں لیکن اب اس مقصد کے حصول کا راستہ پُر خوف حوصلے شکنی سے مزید اٹ گیا ہے اور یہ بھی خطرہ ہے کہ شدت پسند عالمِ اسلام میں اسے متشدد ردِ عمل کے لیئے استعمال کرنے میں کامیاب ہو جائیں۔

اب پوپ کو احساس رہے گا
 اب پوپ کو ہمیشہ یہ احساس رہے گا کہ وہ جو کچھ بھی کہیں گے اسے پوری دنیا میں انتہائی غور سے سنا جائے گا اور اس کے ہر ممکن معنی نکالنے کی کوشش کی جائے گی

پوپ نے اپنے الفاظ پر اظہارِ افسوس کیا ہے اور اس سے یقیناً مسلمانوں میں کسی حد تک اطمینان پیدا ہو گا لیکن اب پوپ کو ہمیشہ یہ احساس رہے گا کہ وہ جو کچھ بھی کہیں گے اسے پوری دنیا میں انتہائی غور سے سنا جائے گا اور اس کے ہر ممکن معنی نکالنے کی کوشش کی جائے گی۔

اب وہ نومبر میں ترکی جا رہے ہیں اور وہاں انہیں ایک بار پھر یہ موقع میسر آئے گا کہ وہ اپنی وضاحت کر سکیں۔

اس دوران ویٹیکن کے لیئے خاصا وقت ہو گا کہ وہ دنیا کے دو بڑے مذاہب کے درمیان اپنے قول و فعل کے ذریعے بہتر تعلقات کی راہ ہموار کرے۔

پاپائے رومغلط مطلب لیا گیا
پاپائے روم کے بیان کا مکمل متن
ویٹیکن میں سکیورٹی
مسلمانوں کی جانب سے پرتشدد مظاہروں کا خدشہ
پوپ کا بیان: کراچی والے کیا کہتے ہیں؟’بڑی بات کہہ دی‘
پوپ کا بیان: کراچی والے کیا کہتے ہیں؟
پوپپوپ: سوانحی خاکہ
پوپ دانشووانہ بحث کو ترجیح دیتے ہیں۔
معافی کا مطالبہ
جہاد پر پوپ کا بیان غیرذمہ دارانہ ہے: علماء
پوپ کا بیان مسترد
پوپ کے بیان پر بھارت کا رد عمل
پوپ کی تقریرآپ کیا کہتے ہیں؟
پوپ بینیڈکٹ کو’بہت افسوس ‘ہے۔
اسی بارے میں
پوپ کا دیدار، سکیورٹی سخت
17 September, 2006 | آس پاس
پوپ بینیڈکٹ کو’افسوس‘ ہے
16 September, 2006 | آس پاس
پوپ کے خلاف قرارداد مذمت
15 September, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد