پوپ نے ذاتی طور پر معافی مانگ لی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پوپ بینیڈکٹ نے گزشتہ ہفتے مسلمانوں سے متعلق متنازعہ بیان جاری کرنے اور مسلمانوں کی دل آزاری کرنے پر ذاتی طور پر معافی مانگ لی ہے۔ پوپ نے کہا ہے کہ انہوں نے قرون وسطٰی کے بادشاہ کے حوالے سے جو الفاظ کہے تھے وہ کسی طور پر بھی ان کی ذاتی رائے نہیں تھی۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ تقریر مذاکرات کی ایک دعوت تھی۔ پوپ کی تقریر کے چوبیس گھنٹے بعد ہی اسلامی دنیا میں یہ متنازعہ بیان ہر طرف پھیل گیا۔ احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے اور پوپ سے معافی مانگنے کے پرۙزور مطالبے بھی کیئے گئے۔ جرمنی میں پوپ بینیڈکٹ نے چودھویں صدی کے ایک مسیحی شہنشاہ کے الفاظ نقل کرتے ہوئے جہاد کے حوالے سے کہا تھا کہ مذہبِ اسلام کے پیغمبر تشدد کے سوا کچھ نہیں لائے تھے۔ روم میں بی بی سی کے نامہ نگار کرسچن فریزر کا کہنا ہے کہ پوپ کے اتوار کے بیان کے بارے میں ناقدین کہیں گے کہ اگر بادشاہ کے خیالات پوپ کے خیالات کی عکاسی نہیں کرتے تھے تو انہیں یہ بات اپنی گزشتہ ہفتے کی تقریر کے دوران بھی کرنی چاہیئے تھی تاکہ کسی بھی طرح کے تنازع کے جنم لینے سے بچا جاسکتا۔
اتوار کو پوپ اپنی رہائش گاہ کی بالکنی میں آئے اور کہا ’مجھے بے انتہا افسوس ہے کہ میری تقریر کو کئی ممالک نے جارحانہ تصور کیا اور نتیجتاً اس قدر اشتعال پھیلا‘۔ ’جو کچھ میں نے کہا وہ قرون وسطٰی کے زمانے کے ایک شاہ کے الفاظ تھے اور کسی صورت بھی میرے ذاتی خیالات کی عکاسی نہیں کرتے‘۔ ’میں امید کرتا ہوں کہ میرے اس بیان سے لوگ مطمئن ہوسکیں گے اور میرے خطاب کا اصل مطلب واضح ہوسکے گا جس کا مقصد کھلے اور مخلصانہ مذاکرات کی دعوت تھی‘۔ پوپ کی رہائش گاہ کے اردگرد سکیورٹی انتظامات میں اضافہ کردیا گیا ہے تاہم سکیورٹی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ وہ عبادت میں مخل نہیں ہوں گے۔ سنیچر کو پوپ نے کہا تھا کہ انہیں افسوس ہے کہ ان کی تقریر سے مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی تاہم ان کے اس بیان سے بیشتر مسلمان حلقے مطمئن نہیں تھے۔ مصر کی سیاسی تنظین اخوان المسلمین نے پوپ سے ذاتی طور پر معافی مانگنے کا مطالبہ کیا تھا۔ عراق کی ایک تنظیم ’مجاہدین آرمی‘ نے مبینہ طور پر اپنی ویب سائٹ کے ذریعے ویٹیکن پر حملے کی دھمکی بھی دی تھی۔ اس بیان کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔ پوپ نومبر میں ترکی کا دورہ کرنے والے ہیں جو ان کا کسی اسلامی ملک کا پہلا دورہ ہوگا۔ ترکی کے وزیر اعظم طیب اردگان نے پوپ کے الفاظ کو ’بدنما اور بدقسمت‘ کہا تھا۔ ان سے جب پوچھا گیا کہ پوپ کا دورہ منصوبے کے مطابق ہی ہوگا تو ان کا کہنا تھا ’ہم کچھ نہیں کہہ سکتے‘۔ | اسی بارے میں پوپ بینیڈکٹ کے بیان پر تنقید14 September, 2006 | پاکستان پوپ کے بیان پر اسرائیل کو اعتراض26 July, 2005 | آس پاس بینی ڈکٹXVI باقاعدہ پوپ بن گئے24 April, 2005 | آس پاس بینیڈیکٹ سِکسٹینتھ نئے پوپ 19 April, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||