پوپ کے خلاف قرارداد مذمت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں قومی اسمبلی نے جمعہ کے روز ایک متفقہ قرار داد کے ذریعے پوپ بینیڈکٹ کے اس بیان کی مذمت کی ہے جس میں انہوں نے جہاد کے حوالے سے مبینہ طور پر کہا تھا کہ مذہبِ اسلام کے پیغمبر تشدد کے سوا کچھ نہیں لائے تھے۔ ایوان نے پوپ سے بیان واپس لینے کا مطالبہ بھی کیا۔ بعد میں ایوان بالا یعنی سینٹ میں بھی پوپ کے بیان پر ایک قرار داد منظور کی گئی جس میں ان سے ایسے بیانات دینے سے اجتناب کرنے اور مختلف مذاہب کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ یہ قرار داد ایوان میں قائد ایوان وسیم سجاد نے پیش کی تھی جس کی حکومت اور حزب اختلاف کے اراکین نے حمایت کی۔ اس سے پہلے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں قومی اسمبلی کا اجلاس جب شروع ہوا تو مسلم لیگ (ن) کے رکن صاحبزادہ فضل کریم نے ایوان کی توجہ پاپائے روم کے گزشتہ دن کے بیان کی جانب مبذول کروائی جوکہ ان کے بقول مسلمانوں کی دل آزاری ہے۔ اس مسئلے پر دیگر اراکین نے جن میں حافظ حسین احمد اور خورشید شاہ شامل تھے تقاریر کیں اور اس بیان کو ایک ایسے وقت جاری کرنے پر احتجاج کیا جب بقول ان کے مذاہب کے درمیان زیادہ ہم آہنگی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ اس سے مذاہب کے درمیان اتنشار اور شکوک و شبہات میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے اس بیان کو اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی بھی قرار دیا۔ بعد میں سپیکر چوہدری امیر حسین نے فضل کریم کو ایک قرار داد پیش کرنے کی اجازت دی۔ متفقہ طور پر منظور کی گئی قرار داد میں ایوان نے پاپائے روم سے بیان واپس لینے اور مسلمانوں سے معافی کا مطالبہ کیا۔ جرمنی میں پوپ بینیڈکٹ نے چودھویں صدی کے ایک مسیحی شہنشاہ کے الفاظ نقل کرتے ہوئے جہاد کے حوالے سے کہا تھا کہ مذہبِ اسلام کے پیغمبر تشدد کے سوا کچھ نہیں لائے تھے۔اور یہ کہ اسلام تلوار کے زور پر پھیلانے کی ہدایت ’غیر انسانی اور بدی‘ کا کام تھا۔ یہ قرار داد تاہم مسیحیوں کے کھیتولک فرقے کے کلیسا کے اس وضاحتی بیان کے ایک دن بعد سامنے آئی ہے جس میں کلیسا نے کہا کہ پوپ کا مقصد مسلمانوں کی دل آزاری نہیں بلکہ وہ مختلف مذاہب کے درمیان ہم آہنگی میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں۔ اس سے قبل پاکستانی کی وزارت خارجہ نے بھی پاپائے روم کے بیان پر تنقید کی تھی۔ ترجمان تسنیم اسلم نے پوپ کی جانب سے اس بیان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ پیغمبر اسلام کی زندگی سے واقف نہیں ہیں۔ ترجمان نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا کہ اس بیان سے مذہبی ہم آہنگی کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ادھر انگریزی اخبار دی نیشن نے آج ایک اداریے میں پاپائے روم کے بیان کو موجودہ عالمی حالات کے تناظر میں غیرمناسب قرار دیا۔ اخبار کے مطابق یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب صلیبی جنگوں کے بعد مسلمانوں اور عسائیوں کے درمیان تعلقات انتہائی کشیدہ ہیں۔ پاکستان میں مختلف سیاسی اور مذہبی تنظیموں کی جانب سے پوپ کے بیان پر مزید سخت ردعمل آنے کی توقع کی جا رہی ہے۔ | اسی بارے میں وضاحت کے باوجود مسلمان غصے میں15 September, 2006 | آس پاس پوپ بینیڈکٹ کے بیان پر تنقید14 September, 2006 | پاکستان ’ڈا وِنچی کوڈ‘: احتجاج بڑھ گیا17 May, 2006 | آس پاس باڑ عیسائی زائرین کیلئے بھی رکاوٹ24 March, 2006 | آس پاس کارٹون معاملہ یواین میں: مشرف25 February, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||