باڑ عیسائی زائرین کیلئے بھی رکاوٹ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یروشلم سے بیت اللحم تک کا رستہ مشکل سے 10 کلومیٹر ہوگا۔ شاید حضرت عیسٰی اور حضرت مریم نے دو ہزار سال پہلے اسی رستے کو استعمال کیا ہو۔ مگر آج یہاں سے گزرتے ہوئے ایک نئی رکاوٹ کا سامنا ہے۔ اور یہ رکاوٹ ہے غرب اردن کے کچھ حصوں میں اسرائیل کی جانب سے کھڑی کی جانے والی پتھریلی باڑ، جو علاقے کی اہم شاہراہ کو کاٹ رہی ہے۔ بیت اللحم تین مذاہب، اسلام، یہودیت اور عیسائیت کے افراد کے لیئے نہایت مقدس ہے۔ فلسطینی علاقے بیت اللحم جانے والے تمام افراد کو اب اس ہائی سکیورٹی چیک پوائنٹ سے گزرنا پڑتا ہے۔ حضرت عیسٰی کی جائے پیدائش کے اس مقام پر بڑی تعداد میں عیسائی زیارت کے لیئے آتے ہیں۔ تاہم اب اس باڑ کے باعث زائرین کو مسائل کا سامنا ہوگا جبکہ بیت اللحم کی حیثیت بھی متاثر ہوسکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عیسائی اقلیت یہ علاقہ چھوڑ کر نقل مکانی کررہی ہے۔ امریکہ سے تعلق رکھنے والے پادری پیسٹر جم لنڈس کا کہنا ہے کہ وہ یہاں گزشتہ گیارہ سال سے باقاعدگی سے آتے رہے ہیں، ’لیکن اب صورتحال بہت بدل گئی ہے۔ اب وہ پہلے والا مزہ ہی نہیں رہا‘۔ ’اس بڑی دیوار کی موجودگی اور یہاں موجود لوگوں پر گزرنے والی مشکلات کو دیکھنا ہمارے لیئے بہت افسوسناک ہے‘۔ اب یہاں پہلے کی نسبت دس فیصد سے بھی کم عیسائی زائرین آتے ہیں۔ اسرائیلی فصیل کی تعمیر کے لیئے بیت اللحم کے بڑے علاقے کی کھدائی کی گئی ہے۔ یہاں موجود ایک دکاندار جمال نشاش کا کہنا ہے کہ علاقے کے کاروبار کو بھی بہت دھچکا پہنچا ہے۔ اگرچہ جمال خود مسلمان ہیں مگر وہ بخوشی عیسائیت اور یہودیت سے متعلق تحائف فروخت کرتے ہیں۔ جمال کا کہنا ہے ’یہاں مسلمانوں کے لیئے بھی اسی طرح کی مشکلات ہیں جیسا کہ عیسائیوں کے لیئے‘۔ فصیل کے علاوہ بھی کچھ وجوہات ہیں جو یہاں کی آبادی کم کرنے میں محرک ہیں۔ مثلاً حماس کا اقتدار میں آنا اور عیسائیوں کی کم آبادی اور گھرانے میں کم بچوں کا رواج۔ تاہم اصل مسئلہ فصیل ہی کا کھڑا کردہ ہے۔ علاقے میں یہودیوں کے لیئے موجود مقدس زیارت شہر کی فصیل کے ساتھ واقع ہے جس کے باعث یہودی زائرین بھی پریشان ہیں۔ اب ان زائرین کو یہاں پہنچنے کے لیئے مسلح سکیورٹی بس کا سہارا لینا ہوتا ہے۔ بیشتر اسرائیلی اس فصیل کی تعمیر کے حق میں ہیں۔ فصیل کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد صرف اسرائیلیوں کے لیئے یہاں تک کی رسائی نہایت آسان ہوجائے گی تاہم دیگر یہودی اس پر خوش نہیں ہیں۔ یہاں رہنے والے عیسائی افراد کا خیال ہے کہ دنیا ان کے مسئلہ کو نہیں سمجھ رہی۔ کچھ افراد بیرون ممالک بسنے والے عیسائیوں پر الزام عائد کرتے ہیں کہ وہ اس سلسلے میں کچھ نہیں کررہے۔ ایک شخص کا کہنا تھا ’جب اسرائیل کی بات ہوتی ہے تو عیسائی بردادری کا رویہ کچھ بزدلانہ ہوجاتا ہے۔ یہ ہیں تو سخت الفاظ مگرانہیں یہ سننا ہی ہونگیں‘۔ | اسی بارے میں اسرائیل باڑ مسمار کرے: اقوم متحدہ21 July, 2004 | آس پاس سادات اسرائیلی تحویل میں14 March, 2006 | آس پاس اسرائیلی منصوبہ اعلان جنگ: حماس10 March, 2006 | آس پاس سرحد کیلیے یکطرفہ انخلاء: اسرائیل05 March, 2006 | آس پاس اسماعیل ہنیہ کے انٹرویو کی ویڈیو20 February, 2006 | آس پاس ’فلسطینی مالی بحران کا شکار‘19 February, 2006 | آس پاس غزہ کے لوگوں کی حالت دگرگوں01 February, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||