’پوپ کے الفاظ انتہائی خطرناک ہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی اخبار گارڈین میں ایک مضمون میں کہا گیا ہے کہ پوپ بینیڈکٹ ایک ایسے وقت اپنے پیشرو پوپ جان پال کے بین المذاہب ہم آہنگی پیدا کرنے والے ان اقدامات سے خود کو علیحدہ کر رہے ہیں جس وقت ان کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ اخبار کے مطابق پوپ کا متنازعہ بیان ڈنمارک میں شائع ہونے والے کارٹونوں سے پیدا شدہ بحران کے بعد آیا ہے اور وقت کی نزاکت کے تناظر میں پوپ کے الفاظ انتہائی خطرناک ہیں۔ مضمون نگار کیرن آرمسٹرونگ نے جو اسلامی تاریخ پر ایک کتاب کی مصنفہ بھی ہیں، لکھا ہے کہ پوپ کا بیان اتنا خطرناک ہے کہ اس سے اور زیادہ مسلمانوں کو یقین ہو جائے گا کہ مغرب اسلاموفوبیا کا اس حد تک شکار ہو چکا ہے کہ اس کا کوئی تدارک نہیں ہو سکتا۔ ’مشکل یہ ہے کہ مغربی دنیا میں بہت سے لوگ لاشعوری طور پر اس تعصب میں مبتلا ہیں کہ اسلام اور قرآن ہمیشہ تشدد کا درس دیتے ہیں۔ گیارہ ستمبر سنہ دو ہزار ایک میں امریکہ پر حملہ کرنے والے دہشت گردوں نے مغربی ذہنوں میں جا گزیں اس خیال کو مزید تقویت دی ہے۔‘ مصنفہ کے نزدیک ان خود کش حملہ آوروں نے اسلام کے بنیادی اور ضروری اصولوں کی خلاف ورزی کی لیکن مغرب انہیں مسلمانوں کا نمائندہ سمجھتا ہے حالانکہ وہ خود کش حملہ آور اسلامی نقطۂ نظر سے منحرف تھے۔ مضمون نگار کے مطابق قرون وسطیٰ سے مسلمانوں کے بارے میں باہر کی دنیا کا خیال، مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال کے پس منظر میں سر اٹھا لیتا ہے۔ مصنفہ کا کہنا ہے کہ بیسویں صدی تک اسلام میں عیسائیت کی نسبت امن اور برداشت زیادہ تھی۔ مغربی خیال کے برعکس مسلمان کسی پر تلوار کی طاقت سے اپنا دین مسلط نہیں کرتے تھے۔ پیغمبرِ اسلام کی رحلت کے بعد فارس اور بازنطین کی فتوحات کا پس منظر مذہبی مصالح کی بجائے سیاسی تقاضوں پر مبنی تھا۔ ’آٹھویں صدی کے وسط تک اسلامی سلطنت میں عیسائیوں اور یہودیوں کو مسلمان بنانے کی حوصلہ شکنی ہوتی تھی کیونکہ قرآن کا فتویٰ تھا کہ ان مذاہب کو ان کا اپنا آسمانی پیغام مل چکا ہے۔ تاہم اسلام میں انتہا پسندی اور عدم برداشت جو ہم آج دیکھتے ہیں، قابو میں نہ آنے والے سیاسی مسائل کی وجہ سے ہے۔ اس کا سبب تیل، فلسطین، مسلمانوں کے علاقوں پر قبضے، مشرقِ وسطیٰ میں مطلق العنان حکومتوں اور مغرب کے دہرے معیار ہیں نہ کہ مسلمانوں کے مذہبی واجبات۔‘ منصفہ لکھتی ہیں کہ اس سب کے باوجود اسلام کے اس تصور کو ختم کرنا تقریباً ناممکن لگتا ہے کہ وہ ایک متشدّد دین ہےاور فتنہ بن کر انتہائی ناموزوں اوقات پر سر اٹھاتا ہے۔ ’اپنی پرانی عادت سے مجبور ہم اس تصور کو اجاگر کر کے دراصل اسے مضبوط بنا رہے ہیں۔ عراق، فلسطین اور لبنان میں جو تشدد ہو رہا ہے اس میں ہم بھی ذمہ دار ہیں، اور شاید یہی سبب ہے کہ ہم ساری کی ساری ذمہ داری اسلام پر ڈال رہے ہیں۔ لیکن خیال رہے اگر ہم اپنے تعصبات کی پرورش یونہی کرتے رہے تو خطرہ بھی ہم ہی مول لے رہے ہوں گے۔ |
اسی بارے میں پوپ کی معذرت کا خیرمقدم17 September, 2006 | آس پاس پوپ نے ذاتی طور پر معافی مانگ لی17 September, 2006 | آس پاس معافی مانگنے پر پوپ کی تعریف 16 September, 2006 | آس پاس وضاحت کے باوجود مسلمان غصے میں15 September, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||