BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 17 September, 2006, 13:55 GMT 18:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پوپ کی معذرت کا خیرمقدم
پوپ کی جانب سے مانگی گئی معافی ’کافی‘ ہے: اخوان المسلمین
کئی مسلمان تنظیموں نے پوپ کی حالیہ ترین معذرت پر مثبت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

مصر کی سیاسی تنظین اخوان المسلمین نے کہا ہے کہ مسلمانوں کے بارے میں اپنے گزشتہ بیان پر پوپ کی جانب سے مانگی گئی معافی ’کافی‘ ہے۔

پیغمبر اسلام اور جہاد کے بارے میں پوب بینیڈکٹ کے گزشتہ ہفتے کے بیان کے خلاف مسلم دنیا کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا تھا۔

اخوان المسلمین کے نائب سربراہ محمد حبیب نے کہا ’ہم سمجھتے ہیں کہ پوپ کا حالیہ بیان گزشتہ بیان سے انحراف کو ظاہر کرتا ہے‘۔

انہوں نے مزید کہا ’اگرچہ ہم چاہتے تھے کہ پوپ اسلام کے بارے میں اپنے نظریات اور خیالات کا بھی اظہار کریں تاہم پھر بھی ہم پوپ کے الفاظ کو کافی تصور کر سکتے ہیں‘۔

جرمنی میں مسلمانوں کی مرکزی کونسل کا کہنا ہے کہ پوپ نے گزشتہ چند روز سے پھیلنے والی بے چینی کو ختم کرنے کے لیئے ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔

پوپ نے اتوار کے بیان میں کہا ہے کہ جو کچھ بھی انہوں نے کہا وہ قرون وسطٰی کے زمانے کے ایک شاہ کے الفاظ تھے اور کسی صورت بھی ان کے ذاتی خیالات کی عکاسی نہیں کرتے تھے۔ اس پر محمد حبیب کا کہنا تھا کہ ’ہم جاننا چاہتے تھے کہ اسلام کے بارے میں پوپ کے ذاتی خیالات کیا ہیں‘۔

پوپ کے بیان پر جہاں مسلمان ملکوں میں احتجاجی مظاہرے ہوئے وہیں چند مقامات پر کلیساؤں پر بھی حملے ہوئے۔

فلسطین میں حماس حکومت کے سربراہ وزیر اعظم اسمٰعیل ہانیہ نے نابلوس میں چرچ پر کیئے گئے حملے کی مذمت کی ہے۔ ’کسی بھی فلسطینی شہری کو چرچ پر حملہ نہیں کرنا چاہیئے۔ فلسطین کی عیسائی برادری فلسطین کا حصہ ہے اور یہاں پر موجود عیسائی برادری کے سربراہ نے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بیان کی مذمت کی ہے‘۔

فلسطین
نابلس میں کئی کلیساؤں پر حملے کیئے گئے

فلسطین کے دیگر حکام نے بھی ایسے ہی خیالات کا اظہار ہے۔ اس سے قبل غرب اردن میں گزشتہ تین دن سے کلیساؤں پر حملے کیئے جارہے تھے تاہم ان میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔

پوپ نومبر میں ترکی کا دورہ کرنے والے ہیں جو ان کا کسی اسلامی ملک کا پہلا دورہ ہوگا۔ حالیہ واقعات کے بعد ان کے دورے کے بارے میں ابہام پیدا ہوگیا تھا تاہم اب ویٹیکن کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ دورہ منسوخ کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ دوسری جانب ترکی کے وزیر خارجہ عبد اللہ گل نے بھی کہہ دیا ہے کہ پوپ کا دورہ منصوبے کے مطابق ہی رہے گا۔

اتوار کو پوپ کے بیان سے قبل ایران میں سینکڑوں افراد نے احتجاجی مظاہرے کیئے جن میں پوپ کی شدید مذمت کی گئی۔ ایران کے مذہبی رہنما احمد خاتمی نے پوپ اور صدر بش کا موازنہ کیا اور کہا ’یہ دونوں صلیبی دور کے احیاء کے لیئے متحد ہیں‘۔

پوپ بینیڈکٹ نے اتوار کے بیان میں کہا ہے ’مجھے بے انتہا افسوس ہے کہ میری تقریر کو کئی ممالک نے جارحانہ تصور کیا اور نتیجتاً اس قدر اشتعال پھیلا۔

اسی بارے میں
پوپ بینیڈکٹ کے بیان پر تنقید
14 September, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد