BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 22 July, 2007, 19:56 GMT 00:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ترکی : حکمران جماعت کی کامیابی
طیب اردگان میں مذہب ایجنڈہ پر عمل درآمد کرنے کا الزام ہے
ترکی میں عام انتخابات میں حکمران جماعت ’جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ‘ (اے کے) پارٹی کی واضح کامیابی پر اس کے حامی ملک بھر میں خوشیاں منا رہے ہیں۔

وزیر اعظم طیب اردگان نے انتخابات میں اپنی پارٹی کی کامیابی کے بعد اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ قومی یکجہتی کے لیےکوششیں جاری رکھیں گے۔

انقرہ میں پارٹی کے حامیوں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اے کے جماعت کی کامیابی دراصل جمہوریت کی فتح ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت نے ایک کڑا امتحان پاس کر لیا ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ان کی جماعت ترکی میں جمہوری اصلاحات اور اقتصادی ترقی کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔

ترکی میں صدر کے انتخاب پر حزب اقتدار اور حزب اختلاف کی جماعتوں میں پیدا ہونے والے سیاسی تعطل کو حل کرنے کے لیے آئینی مدت پوری ہونے سے قبل عبوری انتخابات کا اعلان کیا گیا تھا۔

انقرہ میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار کرس مورس کا کہنا ہے کہ اے کے پارٹی نے انتخابات میں حیران کن کامیابی حاصل کر لی ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جو حکمران جماعت پر مذہبی رجحانات کو ہوا دینے کا الزام عائد کرتے تھے وہ واضح طور پر اقلیت میں ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ترکی میں تین چوتھائی ووٹوں کی گنتی کے بعد حکمران جماعت کو سینتالیس فیصد ووٹ حاصل تھے۔

حکمران جماعت کو ڈالے گئے ووٹوں کے تناسب سے اسے ترکی کی پارلیمان کی ساڑھے پانچ سو نشستوں میں سے تین سو چالیس کے قریب حاصل ہو جائیں گی۔

ابتدائی اندازوں کے مطابق حزب اختلاف کی دو بڑی جماعتوں سی ایچ پی اور ایم پی ایچ کو بالترتیب ایک سو بارہ اور ستر نشستیں حاصل ہوں گی جبکہ پچیس سٹیں آزاد امیدواروں کو ملیں گی جن میں کرد نمائدے بھی شامل ہیں۔

ترکی کی سیاسی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر ہونےوالے ان انتخابات میں ووٹ ڈالنے کا تناسب بہت زیادہ رہا۔

حزب اختلاف کی سیکولر جماعتیں حکمران جماعت اے کے پارٹی پر ملک کو مذہب کی طرف لیے جانے کا الزام عائد کرتی رہیں۔ تاہم حکمران جماعت نے ہمیشہ ان الزامات کی بڑی شدت سے تردید کی ہے۔

قبل ازیں اتوار کو ووٹ ڈالنے کے بعد وزیر اعظم طیب اردگان نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان انتخابات سے ملک میں جمہوریت مستحکم ہوکر ابھرے گی۔

ان انتخابات میں ترکی کی چودہ مختلف جماعتوں کے درمیان پارلیمان کی ساڑھے پانچ سو نشستوں پر مقابلہ ہو رہا تھا۔ ترکی میں چار کروڑ بیس لاکھ لوگوں کو حق رائے دہی حاصل ہے اور ووٹ کا استعمال لازمی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد