ترکی: عبداللہ گل صدر منتخب | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ترکی میں فوج اور سیکولر قوتوں کے تحفظات کے باوجود اسلامی ماضی کے حامل عبداللہ گُل ملک کے صدر منتخب ہو گئے ہیں۔ انیس سو تئیس میں ترکی کے ایک مکمل سیکولر ملک کی حیثیت سے قیام کے بعد عبداللہ گل ملک کے پہلے سربراہ ہیں جن کا پس منظر اسلامی ہے۔ عبداللہ گل کا انتخاب منگل کو ارکان پارلیمان یا نائبین کی ووٹنگ کے تیسرے مرحلے میں ہوا۔ گزشتہ کئی ماہ سے حکمران جسٹس پارٹی کی طرف سے ان کی نامزدگی کے بعد سے ان کی جماعت اور ملک کی سیکولر طاقتوں کے درمیان تناؤ کی کیفیت رہی ہے۔ انتخاب سے قبل اسلام پسند حکمران جماعت جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی کے امیدوار عبداللہ گل نے اپنے اس عہد کو دہرایا ہے کہ وہ ریاست کی سخت غیرمذہبی روایات کے ساتھ مخلص رہیں گے۔ چونکہ گزشتہ دنوں پارلیمان میں ہونے والی رائے شماری میں عبداللہ گل کی جسٹس پارٹی کو واضح اکثریت ملی تھی، اس لیے منگل کو ہونے والے تیسرے انتخابی مرحلے میں صدر بننے کے لیے انہیں محض سادہ اکثریت درکار تھی۔ ادھر پیر کو ملک کی مسلح افواج کے سربراہ نے خبردار کیا تھا کہ ’برائی کے مرکز‘ ریاست کو زیر نگوں کرنا چاہتے ہیں۔
کوئی نام لیے بغیر جنرل یاسر بویوکانت کا کہنا تھا کہ یہ لوگ ’ ترکی جمہوریہ کی سیکولر حیثیت کو زنگ آلود کرنا چاہتے ہیں۔‘ مبصرین کا کہنا ہے کہ انہیں کوئی شک نہیں کہ مسلح افواج کے اس بیان کا نشانہ عبداللہ گل تھے جو کہ ایک باعمل مسلمان ہیں۔ سیاسی بحران واضح رہے کہ ترکی کی مسلح افواج خود کو ملک میں غیر مذہبی یا سیکولر روایات کی پاسبان سمجھتی ہیں اور فوج گزشتہ ساٹھ برسوں میں چار منتخب حکومتوں کو برطرف کر چکی ہے۔ مسلح افواج کے سربراہ کا حالیہ بیان گزشتہ چند ماہ کے دوران افواج کی جانب سے جاری کیا جانے والا دوسرا انتباہ ہے۔ اپریل میں فوج نے اپنے خدشے کا اظہار اس وقت کیا تھا جب صدارتی انتخابات کے پہلے مرحلہ میں عبداللہ گل چند ووٹوں کی کمی سے صدر نہیں بن سکے تھے۔ اس کے بعد پارلیمان میں حکمران اے کے پی اور سیکولر جماعتوں کے درمیان ایک سیاسی بحران کی کیفیت پیدا ہوگئی جس کی وجہ سے جولائی میں فوری رائے شماری کرانا پڑی تھی۔ اِن انتخابات میں بھی اے کے پی سینتالیس فیصد ووٹ لیکر واضح اکثریتی جماعت کے طور پر سامنے آئی اور اس نے دوبارہ عبداللہ گل کو اپنا صدارتی امیدوار نامزد کر دیا۔
صدارتی انتخاب کے پہلے دو مراحل میں عبداللہ گل محض چند ووٹوں سے صدر منتخب نہیں ہو سکے لیکن توقع ہے کہ منگل کو ہونے والے مرحلے میں انہیں مطلوبہ اکثریت حاصل ہو جائے گی۔ فوج اور ملک کی سیکولر اسٹیبلشمنٹ کو شک ہے کہ کہیں عبداللہ گل کے کوئی خفیہ اسلامی عزائم نہ ہوں۔ اس بات کا خدشہ ہے کہ عبداللہ گل کے صدر بننے کی صورت میں کہیں ان کی اہلیہ صدارتی محل میں سر پر اسلامی سکارف پہنے نہ نظر آئیں۔ اس وقت پارلیمان میں حکمران جماعت کے نائبین کی تعداد تین سو سڑسٹھ سے کم ہے، تاہم صدارتی انتخابات کے تیسرے اور چوتھے مرحلے میں جیتنے والے امیدوار کو محض سادہ اکثریت (یعنی دو سو چھہتر ارکان کی حمایت) درکار ہوتی ہے اور اے کے پی کے اپنے ارکان پارلیمان کی تعداد تین سو اکتالیس ہے۔ جدید ترکی کے بانی مصطفٰے کمال اتاترک نے سلطنت عثمانیہ کے خاتمے پر ایک مغربی طرز کی جمہوریہ کی بنیاد رکھتے وقت عام زندگی میں مذہب کے عمل دخل پر پابندی لگا دی تھی۔ ترکی میں اگرچہ صدر کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہوتی ہے لیکن اسے پارلیمان سے پاس ہونے والے قوانین اور حکومت کی جانب سے تقرر کیے جانے والے افسران کی تقرری کو ویٹو کرنے کے اختیارات حاصل ہوتے ہیں۔ | اسی بارے میں عبداللہ گل پھر صدارتی امیدوار14 August, 2007 | آس پاس ترکی : حکمران جماعت کی کامیابی 22 July, 2007 | آس پاس ترکی: سیاسی تاریخ کے اہم انتخابات22 July, 2007 | آس پاس ترکی: جلد انتخابات کرانے کی پیشکش02 May, 2007 | آس پاس ترکی صدارتی انتخابات کالعدم01 May, 2007 | آس پاس ترکی: سیکولرازم کے حق میں جلوس29 April, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||