BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 14 August, 2007, 06:43 GMT 11:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عبداللہ گل پھر صدارتی امیدوار
عبداللہ گُل
مئی میں بھی عبداللہ گُل کی نامزدگی کی مخالفت ہوئی تھی
ترکی کی حکمران جماعت نے تصدیق کی ہے کہ اس نے ملک کی صدارت کے لیے عبداللہ گُل کو دوبارہ اپنا امیدوار نامزد کر دیا ہے۔

جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی (ای کے پی) کے حکام نے کہا ہے کہ اس بات کا باقاعدہ اعلان عبداللہ گل خود منگل کو کریں گے۔

واضح رہے کہ مئی میں جب جسٹس پارٹی نے اسلامی خیالات کے حامل عبداللہ گل کی نامزدگی کا اعلان کیا تھا تو ملک کے سیکولر حلقوں نے اس کی مخالفت کی تھی۔ اس وقت عبداللہ گل صدر نہیں بن سکے لیکن ان کی جماعت عام انتخابات واضح اکثریت سے جیت گئی تھی۔

ترکی کے سیکولر سیاستدان اور فوج عبداللہ گل کی دوبارہ نامزدگی کی مخالفت کر رہے ہیں۔نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ سیکولر سیاستدان اور فوج نہیں چاہتے کہ عبداللہ گل ملک کے صدر بنیں کیونکہ ان کا ماضی اسلامی رہا ہے اور ان کی اہلیہ سر پر سکارف لیتی ہیں۔

ترکی کے ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ اپنے انتخاب کی راہ ہموار کرنے کی غرض سے عبداللہ گل حزب مخالف کی جماعتوں کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کریں گے۔

پارلیمانی قوائد کے مطابق صدراتی امیدواروں پر لازم ہے کہ وہ اپنی نامزدگی کی تصدیق انیس اگست کی رات تک کر دیں جبکہ صدارتی انتخابات کی پہلے مرحلے کی ووٹنگ بیس تاریخ کو ہوگی۔

مستقبل کے صدر کے لیے لازم ہے کہ وہ پہلے اور دوسرے مرحلے کے دوران دو تہائی ووٹ حاصل کرے یعنی 550 ارکان پارلیمان یا نائبین میں سے تین سو سڑسٹھ کی حمایت ضروری ہے۔

اس وقت پارلیمان میں حکمران جماعت کے اپنے نائبین کی تعداد تین سو سڑسٹھ سے کم ہے، تاہم صدارتی انتخابات کے تیسرے اور چوتھے مرحلے میں جیتنے والے امیدوار کو محض سادہ اکثریت (یعنی دو سو چھہتر ارکان کی حمایت) درکار ہوتی ہے اور اے کے پی کے اپنے ارکان پارلیمان کی تعداد تین سو اکتالیس ہے۔

اس دوران حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت بائیں بازو کی ریپبلکن پیپلز پارٹی نے کہا ہے کہ وہ عبداللہ گل کی مخالفت جاری رکھے گی۔ پیپلز پارٹی کی رہنماء ڈنیز بیکل نے سی این این سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ عبداللہ گل ایک نظریاتی حلقے کے رکن ہیں ان کے انتخاب سے ترکی ایک ایسا ملک بن جائے گا جہاں سیاسی توازن تبدیل ہو جائے گا اور اس کی شناخت یورپ سے زیادہ مشرق وسطیٰ سے منسلک ہو جائے گی۔

ترکی میں اگرچہ صدر کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہوتی ہے لیکن اسے پارلیمان سے پاس ہونے والے قوانین اور حکومت کی جانب سے تقرر کیے جانے والے افسران کی تقرری کو ویٹو کرنے کے اختیارات حاصل ہوتے ہیں۔

ملک کے موجودہ صدر کئی مواقع پر حکمران جماعت کی منظور کی ہوئی تبدیلیوں کا راستہ روک کر اسے بیزار کر چکے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد