ُموسٰی قلعہ میں فوجی آپریشن جاری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوبی افغانستان کے شہر موسیٰ قلعہ کو طالبان مزاحمت کاروں سے آزاد کروانے کے لیے برطانوی،امریکی اور افغان فوجوں نے مشترکہ فوجی کارروائی شروع کر دی ہے۔ افغانستان میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اس آپریشن کو’ظفر‘ کا نام دیا گیا ہے اور افغان وزارتِ دفاع نے پیر کو اس کے آغاز کا اعلان کیا تھا لیکن عین موقع پر مذاکرات کی وجہ سے لڑائی میں تعطل آ گیا تھا۔ تاہم اب ہلمند کے گورنر کا کہنا ہے کہ علاقے میں شدید لڑائی جاری ہے۔طالبان نے اس حملے کو بہت بڑا اور شدید حملہ بتایا ہے اور کہا ہے کہ قریباً دو ہزار طالب مزاحمت میں مصروف ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق صوبہ ہلمند میں موسیٰ قلعہ کے علاقے سے سینکڑوں شہری نقل مکانی کر گئے ہیں۔ فروری دو ہزار چھ تک موسیٰ قلعہ قبائلی عمائدین سے ہونے والے سمجھوتے کے تحت برطانوی فوجیوں کے قبضے میں تھا لیکن بعد میں یہ طالبان کے زیر تسلط چلا گیا تھا۔ ادھر جنوبی افغانستان میں ہونے والے ایک دھماکے میں ایک برطانوی فوجی ہلاک اور دو زخمی ہوئے ہیں۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ افغانستان کے فوجی سربراہ جنرل بسم اللہ نے افغانستان کے دورے پر جانے والے امریکی وزیرِ دفاع رابرٹ گیٹس کو بتایا ہے کہ افغانستان کو طالبان کی شورش کا مقابلہ کرنے کے لیے مزید تربیت اور ہتھیاروں کی ضرورت ہے۔ رابرٹ گیٹس نے کہا ہے کہ پنٹاگان افغانستان کو درکار ہتھیاروں اور رسد کی ترسیل کو مزید بہتر بنانے کے طریقوں پر غور کر رہا ہے۔ | اسی بارے میں چالیس طالبان کی ہلاکت کا دعوٰی01 September, 2007 | آس پاس طالبان رہنما کی ہلاکت کا دعویٰ14 February, 2007 | آس پاس طالبان کارروائی، افغان اہلکار گرفتار12 February, 2007 | آس پاس موسٰی قلعہ پر بات چیت نہیں: طالبان06 February, 2007 | آس پاس طالبان سے قبضہ چھڑانے کی تیاری03 February, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||