طالبان کا کرزئی سے مذاکرات سے انکار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں طالبان کے ایک ترجمان نے صدر حامد کرزئی کی جانب سے مذاکرات کی ایک اور دعوت مسترد کر دی ہے۔ قاری یوسف احمدی کا کہنا ہے کہ جب تک افغان سرزمین پر غیرملکی فوج موجود ہے اس وقت تک افغان حکام سے کسی قسم کے مذاکرات ممکن نہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ طالبان کسی قسم کے حکومتی عہدوں یا وزارتوں میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ افغان صدر حامد کرزئی نے سنیچر کو کہا تھا کہ اگر طالبان کو حکومت میں شریک کرنے سے ملک میں امن قائم ہو سکتا ہے تو وہ اس کے لیے تیار ہیں۔ حامد کرزئی کی جانب سے یہ بیان کابل میں ایک خود کش حملے میں تیس افراد کی ہلاکت کے بعد سامنے آیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ طالبان رہنما ملا عمر اور جنگی سردار گلبدین حکمت یار سے رابطہ کر کے یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ وہ کیوں افغانستان کو تباہ کرنے کے درپے ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ ان دونوں افراد سے ذاتی طور پر ملنا چاہتے ہیں اور انہیں امن کے قیام کے لیے انہیں وزارتوں کی پیشکش بھی کر سکتے ہیں۔ تاہم انہوں نے ملک سے غیرملکی فوجوں کے انخلاء خارج از امکان قرار دیا تھا۔ | اسی بارے میں چالیس طالبان کی ہلاکت کا دعوٰی01 September, 2007 | آس پاس ’طالبان مغویوں کی رہائی پر تیار‘28 August, 2007 | آس پاس طالبان کو شامل کرنا پڑے گا: برطانیہ25 September, 2007 | آس پاس ساٹھ طالبان ہلاک کرنے کا دعویٰ26 September, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||