BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
طالبان کو شامل کرنا پڑے گا: برطانیہ
ڈیس براؤن
طالبان کہیں نہیں جا رہے ہیں: ڈیس براؤن
برطانیہ کے وزیر دفاع ڈیس براؤن نے کہا ہے کہ افغانستان میں قیام امن کے عمل میں کسی مرحلہ پر ’طالبان کو بھی شامل کرنے کی ضرورت ہوگی۔‘

حکمران لیبر پارٹی کی کانفرنس کے دوران ایک ذیلی میٹنگ میں ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کے کسی بھی حل کے لئے ’ضروری ہے کہ اس کی بنیاد اسلامی ہو۔‘

برطانوی وزیر دفاع نے کہا کہ اس معاملے میں طالبان کی شرکت ہوگی کیونکہ جیسے حماس فلسطین سے نہیں جا رہی اسی طرح ’طالبان بھی کہیں نہیں جا رہے ہیں۔‘

ڈیس براؤن کا مزید کہنا تھا کہ برطانیہ کے لئے ضروری ہے کہ وہ افغانستان اور عراق کے سلسلے میں اپنے وعدوں کا پاس رکھے۔

اس وقت برطانیہ کے تقریباً سات ہزار پانچ سو فوجی افغانستان میں طالبان کے خلاف لڑ رہے ہیں جبکہ عراق میں اس کے فوجیوں کی تعداد پانچ ہزار پانچ سو کے لگ بھگ ہے۔

ایک تھِنک ٹینک کی جانب سے بلائی گئی میٹنگ میں وزیر دفاع نے مندوبین کو بتایا کہ ’جب تک ہم پوری طرح تیار نہ ہوں ہمیں اس قسم کے چیلنج لینے نہیں چاہئیں۔ ان چیلنجز میں کچھ ایسے ہی جن کا خیال ہمیں کئی عشروں تک، بلکہ کئی نسلوں تک کرنا ہے۔‘

تاہم ڈیز براؤن نے اس بات پر زور دیا کہ ذمہ داریاں پوری کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ برطانیہ اپنی فوجیں ان ممالک میں موجود رکھے۔

اتحادی فوج اور نیٹو دستےاتحادیوں کا جواز
’طافغان شہری ہلاکتوں کے ذمہ دار طالبان ہیں‘
طالبان سےلاتعلقی
’کرزئی سے مذاکرات پر تیار ہیں‘
طالبانطالبان کے ساتھ سفر
بی بی سی کے نامہ نگار کی خصوصی رپورٹ
جریکوعرب اخبارت کا غصہ
’جریکو آپریشن امریکہ و برطانیہ کی سازش تھی‘
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد