’طالبان مغویوں کی رہائی پر تیار‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں طالبان جنوبی کوریا کے انیس مغوی باشندوں کو آزاد کرنے پر رضامند ہو گئے ہیں۔ یہ لوگ گزشتہ پانچ ہفتوں سے طالبان کی قید میں ہیں۔ جنوبی کوریا کے صدر کے ترجمان نے کہا ہے کہ یہ معاہدہ اس شرط پر طے پایا ہے کہ کوریا اس سال کے آخر تک افغانستان سے اپنے فوجی واپس بلا لے گا۔ واضح رہے کہ طالبان نے جولائی میں صوبہ غزنی سے جنوبی کوریا سے تعلق رکھنے والے تئیس امدادی کارکنوں کو پکڑ لیا تھا۔ بعد ازاں طالبان نے دو مغویوں کو ہلاک اور دو عورتوں کو رہا کر دیا تھا۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کی اطلاع کے مطابق ایک افغان قبائلی سردار نے کہا ہے کہ مغویوں کو تین یا چار دن میں چھوڑ دیا جائے گا۔ لیکن جنوبی کوریا کے سرکاری خبر رساں ادارے نے صدارتی ترجمان چین ہو سین کے حوالے سے بتایا ہے کہ فی الحال مغویوں کی رہائی کے وقت کی تصدیق نہیں کی جا سکتی۔ ترجمان نے مزید کہا کہ جنوبی کوریا اس بات پر بھی متفق ہوگیا ہے کہ اس کے شہری عیسائی مبلغوں کے طور پر افغانستان میں کام نہیں کریں گے۔ | اسی بارے میں نقصان ہوا توکوریا ذمہ دار: طالبان21 August, 2007 | آس پاس دو خواتین مغویوں کو رہا کر دیا گیا13 August, 2007 | آس پاس دو کوریائی خواتین کی رہائی کا اعلان11 August, 2007 | آس پاس کوریائی باشندوں کی رہائی کی امید11 August, 2007 | آس پاس ’موت کے ذمہ دار کرزئی،بُش ہونگے‘06 August, 2007 | آس پاس غزنی:دوسرے مغوی کی لاش برآمد31 July, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||