BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 11 August, 2007, 11:27 GMT 16:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کوریائی باشندوں کی رہائی کی امید
طالبان کے نمائندوں کو آنے کی اجازت دی تھی
افغانستان میں اغواء ہونے والے کوریا کے باشندوں کی بازیابی کے لیے جاری مذاکرات کے بارے میں طالبان کے نمائندوں نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس مسئلے کا بہت جلد مثبت حل نکل آئے گا۔

جنوبی کوریا کے سرکاری وفد سے براہ راست مذاکرات کے دوسرے روز طالبان مذاکرات کاروں نے کہا ہے کہ وہ حل کے قریب پہنچ چکے ہیں۔

طالبان کوریا کے مغوی باشندوں کی بازیابی کے عوض کابل حکومت کی قید میں اپنے چند ساتھیوں کی رہائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

جنوبی کوریا سے تعلق رکھنے والے عیسائی امدادی کارکنوں کو گزشتہ ماہ اغواء کر لیا گیا تھا۔ طالبان پہلے ہی دو اغواء شدگان کو کو ہلاک کر چکے ہیں۔

جنوبی کوریا کے سرکاری وفد کی طالبان سے افغانستان کے جنوبی شہر غزنی میں بات چیت ہو رہی ہے۔

افغان حکومت نے دو طالبان رہنماؤں کی حفاطت کی یقین دہانی کرائی تھی تاکہ وہ جنوبی کوریا کے وفد سے ملاقات کے لیے آ سکیں۔

ان میں شامل ملا قاری بشیر نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ ’ہم مذاکرات کی کامیابی کے بارے میں پر امید ہیں۔‘

 خیال کیا جاتا ہے کہ اغواء شدہ جنوبی کوریا کے باشندوں کو مختلف گروپوں میں غزنی شہر سے کئی میل دور کسی گاؤں میں رکھا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ اپنے چند ساتھیوں کی رہائی کا مطالبہ کر رہے ہیں اور اگر یہ مطالبہ تسلیم کر لیا گیا تو پھر وہ تمام مغویوں کو حکام کے حوالے کر دیں گے۔

ملا بشیر نے کہا کہ طالبان کابل حکومت کی قید میں اپنے ساتھیوں کے بارے میں اسی طرح کے جذبات رکھتے ہیں جس طرح جنوبی کوریا کے حکام اور عوام اپنے اغواء شدہ باشندوں کے بارے میں محسوس کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ طالبان کے قبضے میں جنوبی کوریا کے تمام باشندے خیریت سے ہیں۔

طالبان نے انیس جولائی کو کابل سے قندھار کے راستے پر جنوبی کوریا سے تعلق رکھنے والی ایک عیسائی امدادی تنظیم کے تیئس کارکنوں کو یرغمال بنا لیا تھا۔ ان میں سے گروپ کے سربراہ اور ایک اور مغوی کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔

افغان حکومت نے جسے ماضی میں بھی طالبان سے اغواء شدہ شہریوں کی رہائی کے عوض ان کے مطالبات تسلیم کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے اب کوریا کے باشندوں کی بازیابی کے لیے طالبان قیدیوں کو رہا کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

خیال کیا جاتا ہے کہ اغواء شدہ جنوبی کوریا کے باشندوں کو مختلف گروپوں میں غزنی شہر سے کئی میل دور کسی گاؤں میں رکھا گیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد