BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 06 August, 2007, 00:02 GMT 05:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کرزئی، بش سکیورٹی مذاکرات
صدر کرزئی اور صدر بش کی بات چیت دو روز جاری رہےگی
افغانستان کے صدر حامد کرزئی امریکہ کے دورے پر ہیں جہاں انہوں نے صدر جارج بش کے ساتھ القاعدہ اور طالبان کے خلاف جنگ کے بارے میں دو روزہ بات چیت شروع کی ہے۔

دونوں رہنما افغانستان میں بڑھتے ہوئے تشدد اور بین الاقوامی افواج کے ہاتھوں سویلین ہلاکتوں کے بارے میں بھی گفتگو کرینگے۔

واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہناہے کہ صدر کرزئی اپنے امریکی ہم منصب سے اس بات کی یقین دہانی چاہیں گے کہ سویلین ہلاکتیں روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔

افغان صدر کی کوشش یہ بھی ہے کہ امرکہ پاکستان پر مزید دباؤ ڈالے تاکہ غیرملکی مزاحمت کار پاکستانی سرحد کے ذریعے افغانستان میں داخل نہ ہوسکیں۔ صدر کرزئی اور صدر بش کے درمیان ہونے والے دو روز کے مذاکرات کو طالبان مخالف ’لائحۂ عمل‘ تیار کرنے کی ملاقات قرار دیا گیا ہے۔

امید کی جارہی ہے کہ جارج بش افغان صدر سے کہیں گے کہ وہ پورے ملک میں اپنی حکومت فعال بنائیں تاکہ کرپشن کا صفایا ہوسکے۔ اس سال امریکہ دس بلین ڈالر افغانستان کو دے رہا ہے تاکہ افغان سکیورٹی فورسز کی تربیت ہوسکے۔

ایران کا اثر و رسوخ
 بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ امریکی صدر افغانستان میں ’نتائج‘ دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہمارے نامہ نگار کے مطابق امریکہ اس بات پر بھی فکرمند ہے کہ ایران افغانستان میں طالبان کو اسلحہ فراہم کررہا ہے۔
بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ امریکی صدر افغانستان میں ’نتائج‘ دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہمارے نامہ نگار کے مطابق امریکہ اس بات پر بھی فکرمند ہے کہ ایران افغانستان میں طالبان کو اسلحہ فراہم کررہا ہے۔

افغانستان اور امریکہ کے صدور کی یہ ملاقات ایسے وقت ہورہی ہے جب طالبان نے جنوبی کوریا کے اکیس شہریوں کو مغوی بنارکھا ہے اور حال ہی میں دو کو ہلاک بھی کردیا تھا۔

دریں اثناء افغانستان کے صوبے غزنی کے گورنر نے الزام عائد کیا ہے کہ جنوبی کوریا کے تئیس باشندوں کو اغواء کرنے والے طالبان پاکستانی ہیں اور ان کا تعلق پاکستانی خفیہ ادارے آئی ایس آئی سے ہے۔

غزنی کے گورنر معراج الدین پٹھان نے بی بی سی کو بتایا کہ ابتداء میں ان کوریائی باشندوں کے مغوی مقامی طالبان تھے لیکن بعد میں اس علاقے میں پاکستانی طالبان اور طالبان کا روپ دھارے آئی ایس آئی کے اہلکار آ گئے اور انہوں نے تمام امور کو اپنے ہاتھ میں لے لیا۔

معراج الدین پٹھان نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ غزنی میں طالبان کے نمائندے ملا حسن مذاکرات کے بعد کوئٹہ سے ہدایات موصول ہونے کا کہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملا حسن سارے مذاکرات کا اردو میں ترجمہ کر کے کسی کو بتاتا ہے۔

آئی ایس آئی پر سخت تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام کو بھی اس تنظیم سے خطرہ ہے۔ افغان حکام اکثر پاکستانی خفیہ ادارے آئی ایس آئی پر طالبان سے تعاون کرنے اور انہیں امداد مہیا کرنے کا الزام لگاتے رہے ہیں۔ تاہم پاکستانی حکام اس الزام کی شدت سے تردید کرتے ہیں۔

زخمیقندھار حملہ
مقامی ڈاکٹر ارو عینی شاہدین نے کیا بتایا
ملا عمربن لادن کہاں ہیں؟
میں نے 2001 سے اسامہ کو نہیں دیکھا: ملا عمر
ایرانی سرحدی گارڈایرانی اثر و رسوخ
جنگ کسی اور کی اور نشانہ کوئی اور
طالبان سےلاتعلقی
’کرزئی سے مذاکرات پر تیار ہیں‘
طالبان کا ہیڈکوارٹر
طالبان کا ہیڈکوارٹر کوئٹہ: برطانوی آفیسر
طالبانطالبان کے ساتھ سفر
بی بی سی کے نامہ نگار کی خصوصی رپورٹ
امریکہ میں پاکستانی سفیر محمود علی درانیطالبان سے تعلقات
پاکستانی سفیر نے رپورٹ کی تردید کر دی
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد