گورنرغزنی کا آئی ایس آئی پر الزام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان کے صوبے غزنی کے گورنر نے الزام عائد کیا ہے کہ جنوبی کوریا کے تیئس باشندوں کو اغواء کرنے والے طالبان پاکستانی ہیں اور ان کا تعلق پاکستانی خفیہ ادارے آئی ایس آئی سے ہے۔ غزنی کے گورنر معراج الدین پٹھان نے بی بی سی کو بتایا کہ ابتداء میں ان کوریائی باشندوں کے مغوی مقامی طالبان تھے، لیکن بعد میں اس علاقے میں پاکستانی طالبان اور طالبان کا روپ دھارے آئی ایس آئی کے اہلکار آ گئے اور انہوں نے تمام امور کو اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ معراج الدین پٹھان نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ غزنی میں طالبان کے نمائندے ملا حسن مذاکرات کے بعد کوئٹہ سے ہدایات موصول ہونے کا کہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملا حسن سارے مذاکرات کا اردو میں ترجمہ کر کے کسی کو بتاتا ہے۔ آئی ایس آئی پر سخت تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام کو بھی اس تنظیم سے خطرہ ہے۔ افغان حکام اکثر پاکستانی خفیہ ادارے آئی ایس آئی پر طالبان سے تعاون کرنے اور انہیں امداد مہیا کرنے کا الزام لگاتے رہے ہیں۔ تاہم پاکستانی حکام اس الزام کی شدت سے تردید کرتے ہیں۔ غزنی کے گورنر کی طرف سے لگائے جانے والے تازہ الزامات پر حکومت پاکستان کا ردعمل جاننے کے لیے پاکستانی فوج کے ترجمان اور وزارتِ داخلہ کے حکام سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی لیکن ان سے رابطہ نہ ہو سکا۔ افغان صدر حامد کرزئی امریکی صدر سے مذاکرات کے لیے اتوار کو واشنگٹن پہنچ رہے ہیں۔ پاکستان کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی نے روس کے خلاف افغانستان کے جہاد کے دوران مدد فراہم کی تھی اور انیس سو نوے کی دہائی میں طالبان تنظیم بنانے میں بھی اہم کردار ادا کیا تھا، لیکن گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد طالبان سے ہاتھ اٹھا لیا تھا۔ | اسی بارے میں مغویوں کو رہا کریں: جنوبی کوریا26 July, 2007 | آس پاس مہلت میں ایک بار پھر توسیع23 July, 2007 | آس پاس غزنی:دوسرے مغوی کی لاش برآمد31 July, 2007 | آس پاس افغانستان: کوریائی ہلاک، جرمن رہا25 July, 2007 | آس پاس بلا اجازت افغانستان جانے پر جیل22 July, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||