BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلا اجازت افغانستان جانے پر جیل
اتوار کو سیول میں ہونے والے مظاہرے میں گروپ کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا تھا
جنوبی کوریا نے کہا ہے کہ بغیر اجازت افغانستان جانے والے کوریائی شہریوں کو جیل بھیجا جا سکتا ہے۔

اس سے پہلے طالبان نے جنوبی کوریا کے تیئس اغوا شدہ شہریوں کے بدلے اپنے ساتھیوں کی رہائی کے لیے دی جانے والی مہلت میں سوموار کی شام تک توسیع کر دی تھی۔

طالبان کرزئی حکومت سے ان اغواء شدہ جنوبی کوریائی باشندوں کی رہائی کے بدلے میں حکومت کی قید میں تیئس طالبان کو رہا کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

اپنے تئیس شہریوں کے اغواء کے اس واقعے کے بعد جنوبی کوریا کی حکومت نے اپنے شہریوں کے افغانستان جانے پر پابندی عائد کر دی ہے۔

دریں اثناء افغان سکیورٹی فورسز نے صوبہ غزنی میں اس مقام کا محاصرہ کر لیا ہے جہاں طالبان نے جنوبی کوریا کے 23 شہریوں کو یرغمال بنا رکھا ہے۔

وزارت دفاع کے ایک اہلکار نے بتایا ہے کہ جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول سے مذاکرات کاروں کی ایک ٹیم اتوار کو کابل پہنچی ہے۔

اہلکار نے بتایا کہ طالبان سے مذاکرات جاری ہیں اور مغویوں کو رہا کرانے کے لیے فوجی آپریشن شروع نہیں کیا گیا ہے۔

جنوبی کوریا کے ان تئیس شہریوں کو صوبہ غزنی میں طالبان نے جمعرات کو اس وقت اغواء کرلیا تھا جب وہ قندھار سے کابل کے لیے ایک بس کے ذریعے سفر کر رہے تھے۔

قبائلی عمائدین ان مغویوں کی رہائی کے لیے مذاکرات کر رہے ہیں اور جنوبی کوریا کے ایک سفارتکار بھی وہاں پہنچ گئے ہیں۔

مغوی امدادی کارکن اور مبلغ
 ابتدا میں طالبان نے کہا تھا کہ انہوں نے اٹھارہ افراد کو اغواء کیا ہے لیکن بعد میں انہوں نے تعداد تئیس بتائی۔ ان میں کم سے کم پندرہ خواتین ہیں۔ مغویوں کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ مسیحی مبلغ اور امداد کارکن ہیں۔
افغان وزارت دفاع کے ترجمان جنرل محمد ظاہر عظیمی نے بی بی سی کو بتایا: ’ہم نے اس علاقے کا محاصرہ کر لیا ہے۔ ہم نے ابھی کارروائی شروع نہیں کی ہے اور حالات کا تجزیہ کر رہے ہیں۔‘

اس سے قبل ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ مغویوں کی رہائی کے لیے ایک فوجی آپریشن شروع کیا گیا ہے۔ نیٹو افواج کے ایک ترجمان نے بتایا کہ انہیں کسی آپریشن کی اطلاع نہیں ہے لیکن ضرورت پڑنے پر جنوبی کوریا اور افغان حکومتوں کی مدد کے لیے تیار ہیں۔

ابتدا میں طالبان نے کہا تھا کہ انہوں نے اٹھارہ افراد کو اغواء کیا ہے لیکن بعد میں انہوں نے تعداد تئیس بتائی۔ ان میں کم سے کم پندرہ خواتین ہیں۔ مغویوں کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ مسیحی مبلغ اور امداد کارکن ہیں۔

اتوار کو طالبان کے ایک ترجمان نے بتایا کہ مغویوں کی صحت اچھی ہے۔

جنوبی کوریا کی حکومت نے اتوار کو اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ اپنے فوجیوں کو اس سال کے آخر تک واپس بلانے کے لیے تیاریاں کر رہی ہے۔ فوجیوں کی واپسی کا فیصلہ اغواء کے اس واقعے سے پہلے ہی کیا گیا تھا۔

جرمن شہری کی لاش

دریں اثناء افغان پولیس کے ایک اہلکار نے بتایا کہ طالبان کے ہاتھوں ہلاک کیے جانے والے دو جرمن شہریوں میں سے ایک کی لاش برآمد ہوئی ہے۔

ان افراد کو بدھ کو اغواء کیا گیا تھا۔ طالبان کے ترجمان نے سنیچر کو بتایا کہ دونوں افراد کا اس لیے قتل کردیا گیا کہ جرمنی کی حکومت نے اپنے تین ہزار فوجیوں کی افغانستان سے واپسی کا فیصلہ کرنے سے انکار کردیا۔

 ہلمندافغانستان میں نیٹو
جوانوں اور رسد کی کمی رہی تو کیا ہوگا؟
خود کش حملے
افغانستان میں عراقی حربوں کا استعمال
افغانیصورتحال بد سے بدتر
عام افغانی کا برا حال ہے: ریڈ کراس کی رپورٹ
مزاحمت کارمزاحمت کا حل کیا؟
امریکی فوجیوں کے لیئے نیا ہدایت نامہ
برطانوی فوج کی گاڑیطالبان کا خاتمہ،
پانچ سال بعد بھی کیوں ممکن نہیں ہو سکا؟
مشتبہ طالبانافغانستان میں تشدد
بگڑتی صورتحال کا ذمہ دار آخر کون ہے؟
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد