افغانستان: کوریائی ہلاک، جرمن رہا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں طالبان نے دعویٰ کیا ہے کہ جنوبی کوریا کے جن تئیس باشندوں کو انہوں نے اغوا کیا ہوا ان میں ایک کو مار دیا گیا ہے۔ طالبان کے ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ ہلاکت افغان حکام کی طرف سے حراست میں لیے ہوئے طالبان جنگجوؤں کو رہا نہ کرنے کا جواب ہے۔ تئیس جنوبی کوریائی باشدنوں کو جمعرات کو کابل کے جنوب مغربی صوبہ غزنی سے اغوا کر لیا گیا تھا۔ اس دوران مشرقی صوبہ کنڑ سے منگل کو اغوا کیے جانے والے جرمن صحافی اور ان کے افغان مترجم کو دوسرے دن چھوڑ دیا گیا ہے۔ طالبان کے ترجمان قاری یوسف احمدی نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ ’چونکہ کابل انتظامیہ نے ہمارے مطالبہ پر کان نہیں دھرے اور ہمارے قیدیوں کو رہا نہیں کیا اس لیے طالبان نے کوریائی مغویوں میں سے ایک مرد کو مار دیا ہے۔‘ تاہم آزاد ذرائع سے ترجمان کے اس دعوے کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ جنوبی کوریا کے اغوا کیےگئے شہریوں میں اکثریت خواتین کی ہے جن کا تعلق ایک عیسائی امدادی گروپ سے ہے۔ بدھ کو آزاد کیے جانے والے جرمن صحافی اور ان کے مترجم کی رہائی قبائلی عمائدین کے ساتھ بات چیت کے نتیجے میں ہوئی ہے۔ اس سلسلے میں صوبہ کنڑ کے گورنر کا کہنا تھا کہ دونوں افراد کی رہائی کے بدلی میں کوئی تاوان ادا نہیں کیا گیا ہے۔ ان دونوں افراد کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ ایک گاؤں جا رہے تھے جہاں نیٹو افواج کے ایک فضائی حملے میں عام شہری ہلاک ہو گئے تھے۔ کنڑ کے ایک ہوٹل کے مالک نے بتایا تھا کہ ایک جرمن رسالے کے ساتھ منسلک مذکورہ صحافی ان کے ہوٹل میں ٹھہرا ہوا تھا کہ جب مزاحمت کار وہاں آئے۔ ان کے بقول مزاحمت کار جرمن صحافی کو گھسیٹتے ہوئے عمارت کے باہر لائے اور انہیں اپنے ساتھ لے گئے تھے۔ واضح رہے کہ طالبان نے ان جنوبی کوریائی باشندوں کو بھی قتل کرنے کی دھمکی دے رکھی ہے جنہیں جمعرات کو قندھار سے کابل جاتے ہوئے اغواء کر لیا گیا تھا۔ طالبان کا مطالبہ ہے کہ افغانستان میں موجود جنوبی کوریا کے دو سو فوجی ملک سے چلے جائیں۔ جنوبی کوریا کے صدر نوموہیان نے سنیچر کو ٹیلی ویژن کے ذریعے دیئے گئے ایک بیان میں کہا تھا کہ حکومت مغویان کی رہائی کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔ جنوبی کوریا نے افغانستان سے اپنے فوجی دستے کو رواں سال کے آخر تک واپس بلا نے کا پہلے ہی اعلان کر رکھا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||