BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 06 August, 2007, 17:53 GMT 22:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بش افغانستان کی پیشرفت کے معترف
صدر کرزئی اور صدر بش کی بات چیت دو روز جاری رہےگی
امریکہ کے صدر جارج بش نے افغان صدر سے کہا ہے کہ انہیں فخر ہے حامد کرزئی ان کے اتحادی ہیں۔

واشنگٹن میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ افغانستان میں پچاس لاکھ بچے، جن میں ایک تہائی لڑکیاں ہیں، سکول جا رہے ہیں اور ہر ماہ تین لاکھ چالیس ہزار افغان صحت کے شعیبے میں سہولیات سے مستفید ہو رہے ہیں۔

ادھر افغانستان میں طالبان نے اغواہ شدہ اکیس کوریائی باشندوں کو مار دینے کی نئی دھمکی دی ہے۔

اس موقع پر امریکہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے حامد کرزئی نے کہا کہ صحت کے شعبہ میں بہتری کے نتیجے میں افغانستان میں پانچ سے سے کم عمر کے پچاسی ہزار بچے آج زندہ ہیں۔ صدر بش نے حامد کرزئی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ’ صاحب صدر! بہتری کی جانب پیش رفت ہو رہی ہے اور ہمیں آپ پر فخر ہے۔‘

جنوبی کوریا کا مغویوں کے لیے پاکستان سے رابطہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی غلط دروازے پر دستک دے: تسنیم اسلم
افغان صدر نے کہا کہ انہوں نے صدر بش کے ساتھ بات چیت میں اتحادی فوجی کارروائیوں میں عام شہریوں کی بڑھتی ہوئی ہلاکتوں کے معاملے کو اٹھایا ہے۔ ’شہریوں کی ہلاکتوں پر صدر بش سے میری بات چیت اچھی رہی ہے اور مجھے آپ بتاتے ہوئے فخر محسوس ہو رہا ہے کہ صدر بش کو افغان عوام کے دکھ کا بہت احساس ہے۔‘

افغان صدر کا کہنا تھا کہ ’ صدر بش دہشتگردی کے خلاف جنگ میں افغان عوام کو اپنا اتحادی اور دوست سمجھتے ہیں اور انہیں بھی شہریوں کی ہلاکتوں کا اتنا ہی احساس ہے جتنا مجھے ہے۔‘

’موت کے تاجر‘
پریس کانفرنس میں صدر بش کا کہنا تھا کہ شہریوں کے ذمہ دار طالبان ہیں جبکہ صدر کرزئی نے اسلامی شدت پسندوں کو ’موت کے تاجر‘ کا نام دیتے ہوئے کہا یہ لوگ وہ ہیں جو خود کش حملوں کے لیے بچوں کو استعمال کرنے سے بھی نہیں کتراتے۔

افغان رہنماء نے کہا کہ ’جس برائی کے خلاف ہم لڑ رہے ہیں اس کے بارے میں دیگر دنیا کو یہ واضح ہونا چاہیئے کہ ہم ان پتھر دل لوگوں کے خلاف لڑ رہے ہیں جن کے دل میں چھوٹے بچوں کے لیے بھی رحم نہیں ہے۔‘

اب تک طالبان دو مغویوں کو ہلاک کر چکے ہیں
حامد کرزئی کو سراہتے ہوئے صدر جارج بش کا کہنا تھا کہ ’ ابھی ہمیں بہت کام کرنا ہے تاہم پیش رفت ہو رہی ہے اور ہمیں آپ پر فخر ہے۔‘

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اتحادی فوجوں نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے موسم بہار میں طالبان کی طرف سے بڑے حملوں کے منصوبے کو ناکام بنا دیا ہے۔ ’ہاں موسم بہار کا بڑا شروع ہو چکا ہے لیکن (یہ وہ حملہ ہے جو) طالبان کی بجائے نیٹو افواج کر رہی ہیں اور اس میں افغان فوجیوں کا بھی اتنا ہی کردار ہے۔‘

صدر بش نے کہا:’ ہم نے پہلے حملہ اس لیے کیا کہ ہم جانتے ہیں کہ ہم شدت پسندوں کو اس نوزائدہ جمہوریت کو خراب کرنے کا کوئی موقع نہ دیں۔‘

 کوریا کے سفارتکاروں اور طالبان کے درمیان بات چیت میں کوئی پیش رفت نہیں ہو رہی ہے۔ ابھی تک اس بات پر بھی اتفاق نہیں ہو پایا ہے کہ یہ ملاقات کس مقام پر ہو سکتی ہے
مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران صدر بش نے ایران کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ یہ ملک اپنے عوام کے لیے ’ایک بڑی مایوسی‘ ثابت ہوا ہے۔ ’میں سمجھتا ہوں کہ ایک ایسا ایران جو غیر مستحکم کرنے کی بجائے مستحکم کرے اور جو اپنی جوہری خواہشات ترک کرے، ہم سب کے مفاد میں ہے۔ اسی لیے ہم یہ ہدف حاصل کرنے کے لیے کام کام کر رہے ہیں۔‘

طالبان کی نئی دھمکی
دونوں رہنماؤں کی مشترکہ پریش کانفرنس سے قبل افغانستان میں طالبان نے کہا ہے حامد کرزئی اور جارج بش پر لازم ہے کہ وہ پیر کو کیمپ ڈیوڈ میں اپنی ملاقات میں قید مزاحمت کاروں کو رہا کرنے پر رضامند ہوں ورنہ دونوں رہنماء اغواہ شدہ اکیس کوریائی باشندوں کی موت کے ذمہ دار ہوں گے۔

طالبان کی جانب سے کوریا کے امدادی کارکنوں کو مار دینے کی یہ نئی دھمکی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی جب اغوا کیے گئے کوریائی باشندوں کی رہائی کے لیے کوریا کے سفارتکاروں اور طالبان کے درمیان بات چیت میں کوئی پیش رفت نہیں ہو رہی ہے۔ ابھی تک اس بات پر بھی اتفاق نہیں ہو پایا ہے کہ یہ ملاقات کس مقام پر ہو سکتی ہے۔

واضح رہے کہ اب تک طالبان دو مغویوں کو ہلاک کر چکے ہیں اور بار بار دھمکی دے چکے ہیں کہ اگر ان کے قید ساتھیوں کو رہا نہ کیا گیا تو وہ باقی اٹھارہ خواتین اور تین مردوں کو بھی مار دیں گے۔

 جب پاکستانی ترجمان کی توجہ افغانستان کے صوبہ غزنی کے گورنر کے بیان کی طرف دلائی گئی جس میں انہوں نے الزام لگایا کہ کوریائی باشندوں کے اغوا میں پاکستان اور اس کی خفیہ ایجنسی کا ہاتھ ہے تو تسنیم اسلم نے اس بیان کو ٌمضحکہ خیز ٌ قرار دیا
کسی نامعلوم مقام سے خبررساں ادارے رائٹرز سے ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے طالبان کے ترجمان قاری محمد یوسف نے کہا کہ ’ کرزئی امریکہ گئے ہوئے ہیں اور یہ ممکن ہے کہ وہ بُش کے ساتھ کوریائی باشندوں کی رہائی کے تبادلے میں قیدیوں کی رہائی پر متفق ہوں کیونکہ کرزئی اور بش ہی ان باشندوں کے اغوا کے ذمہ دار ہیں۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر صدر کرزئی اور صدر بش کوریائی باشندوں کے بدلے میں قیدیوں کی رہائی پر متفق نہیں ہوتے تو طالبان کیا کریں گے تو قاری یوسف نے کہا ’ تب اس کی ذمہ داری کرزئی اور بش پر ہو گی۔‘

پاکستان کی تردید
اس دوران پاکستان نے کہا ہے کہ اس نے جنوبی کوریا کی حکومت پر واضح کر دیا ہے کہ وہ افغانستان میں اغوا کیے گئے باشندوں کی رہائی کے لیے کوئی کردار ادا نہیں کر سکتا۔

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار انتخاب امیر کے مطابق پیر کے روز ہفتہ وار پریس بریفنگ میں محکمہ خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے کہا کہ جنوبی کوریا کی حکومت کا اپنے مغوی شہریوں کے لیے حکومتِ پاکستان سے رابطہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی غلط دروازے پر دستک دے ۔

جب ترجمان کی توجہ افغانستان کے صوبہ غزنی کے گورنر کے بیان کی طرف دلائی گئی جس میں انہوں نے الزام لگایا کہ کوریائی باشندوں کے اغوا میں پاکستان اور اس کی خفیہ ایجنسی کا ہاتھ ہے تو تسنیم اسلم نے اس بیان کو ٌمضحکہ خیز ٌ قرار دیا۔

ملا عمربن لادن کہاں ہیں؟
میں نے 2001 سے اسامہ کو نہیں دیکھا: ملا عمر
طالبان سےلاتعلقی
’کرزئی سے مذاکرات پر تیار ہیں‘
طالبان کا ہیڈکوارٹر
طالبان کا ہیڈکوارٹر کوئٹہ: برطانوی آفیسر
طالبانطالبان کے ساتھ سفر
بی بی سی کے نامہ نگار کی خصوصی رپورٹ
امریکہ میں پاکستانی سفیر محمود علی درانیطالبان سے تعلقات
پاکستانی سفیر نے رپورٹ کی تردید کر دی
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد