بش افغانستان کی پیشرفت کے معترف | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کے صدر جارج بش نے افغان صدر سے کہا ہے کہ انہیں فخر ہے حامد کرزئی ان کے اتحادی ہیں۔ واشنگٹن میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ افغانستان میں پچاس لاکھ بچے، جن میں ایک تہائی لڑکیاں ہیں، سکول جا رہے ہیں اور ہر ماہ تین لاکھ چالیس ہزار افغان صحت کے شعیبے میں سہولیات سے مستفید ہو رہے ہیں۔ ادھر افغانستان میں طالبان نے اغواہ شدہ اکیس کوریائی باشندوں کو مار دینے کی نئی دھمکی دی ہے۔ اس موقع پر امریکہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے حامد کرزئی نے کہا کہ صحت کے شعبہ میں بہتری کے نتیجے میں افغانستان میں پانچ سے سے کم عمر کے پچاسی ہزار بچے آج زندہ ہیں۔ صدر بش نے حامد کرزئی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ’ صاحب صدر! بہتری کی جانب پیش رفت ہو رہی ہے اور ہمیں آپ پر فخر ہے۔‘
افغان صدر کا کہنا تھا کہ ’ صدر بش دہشتگردی کے خلاف جنگ میں افغان عوام کو اپنا اتحادی اور دوست سمجھتے ہیں اور انہیں بھی شہریوں کی ہلاکتوں کا اتنا ہی احساس ہے جتنا مجھے ہے۔‘ ’موت کے تاجر‘ افغان رہنماء نے کہا کہ ’جس برائی کے خلاف ہم لڑ رہے ہیں اس کے بارے میں دیگر دنیا کو یہ واضح ہونا چاہیئے کہ ہم ان پتھر دل لوگوں کے خلاف لڑ رہے ہیں جن کے دل میں چھوٹے بچوں کے لیے بھی رحم نہیں ہے۔‘
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اتحادی فوجوں نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے موسم بہار میں طالبان کی طرف سے بڑے حملوں کے منصوبے کو ناکام بنا دیا ہے۔ ’ہاں موسم بہار کا بڑا شروع ہو چکا ہے لیکن (یہ وہ حملہ ہے جو) طالبان کی بجائے نیٹو افواج کر رہی ہیں اور اس میں افغان فوجیوں کا بھی اتنا ہی کردار ہے۔‘ صدر بش نے کہا:’ ہم نے پہلے حملہ اس لیے کیا کہ ہم جانتے ہیں کہ ہم شدت پسندوں کو اس نوزائدہ جمہوریت کو خراب کرنے کا کوئی موقع نہ دیں۔‘ طالبان کی نئی دھمکی طالبان کی جانب سے کوریا کے امدادی کارکنوں کو مار دینے کی یہ نئی دھمکی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی جب اغوا کیے گئے کوریائی باشندوں کی رہائی کے لیے کوریا کے سفارتکاروں اور طالبان کے درمیان بات چیت میں کوئی پیش رفت نہیں ہو رہی ہے۔ ابھی تک اس بات پر بھی اتفاق نہیں ہو پایا ہے کہ یہ ملاقات کس مقام پر ہو سکتی ہے۔ واضح رہے کہ اب تک طالبان دو مغویوں کو ہلاک کر چکے ہیں اور بار بار دھمکی دے چکے ہیں کہ اگر ان کے قید ساتھیوں کو رہا نہ کیا گیا تو وہ باقی اٹھارہ خواتین اور تین مردوں کو بھی مار دیں گے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر صدر کرزئی اور صدر بش کوریائی باشندوں کے بدلے میں قیدیوں کی رہائی پر متفق نہیں ہوتے تو طالبان کیا کریں گے تو قاری یوسف نے کہا ’ تب اس کی ذمہ داری کرزئی اور بش پر ہو گی۔‘ پاکستان کی تردید اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار انتخاب امیر کے مطابق پیر کے روز ہفتہ وار پریس بریفنگ میں محکمہ خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے کہا کہ جنوبی کوریا کی حکومت کا اپنے مغوی شہریوں کے لیے حکومتِ پاکستان سے رابطہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی غلط دروازے پر دستک دے ۔ جب ترجمان کی توجہ افغانستان کے صوبہ غزنی کے گورنر کے بیان کی طرف دلائی گئی جس میں انہوں نے الزام لگایا کہ کوریائی باشندوں کے اغوا میں پاکستان اور اس کی خفیہ ایجنسی کا ہاتھ ہے تو تسنیم اسلم نے اس بیان کو ٌمضحکہ خیز ٌ قرار دیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||