’موت کے ذمہ دار کرزئی،بُش ہونگے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں طالبان نے کہا ہے کہ صدر حامد کرزئی اور امریکہ کے صدر جارج بش پر لازم ہے کہ وہ پیر کو کیمپ ڈیوڈ میں اپنی ملاقات میں قید مزاحمت کاروں کو رہا کرنے پر رضامند ہوں ورنہ دونوں رہنماء اغواہ شدہ اکیس کوریائی باشندوں کی موت کے ذمہ دار ہوں گے۔ طالبان کی جانب سے کوریا کے امدادی کارکنوں کو مار دینے کی یہ نئی دھمکی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اغوا کیے گئے کوریائی باشندوں کی رہائی کے لیے کوریا کے سفارتکاروں اور طالبان کے درمیان بات چیت میں کوئی پیش رفت نہیں ہو رہی ہے۔ ابھی تک اس بات پر بھی اتفاق نہیں ہو پایا ہے کہ یہ ملاقات کس مقام پر ہو سکتی ہے۔ واضح رہے کہ اب تک طالبان دو مغویوں کو ہلاک کر چکے ہیں اور بار بار دھمکی دے چکے ہیں کہ اگر ان کے قید ساتھیوں کو رہا نہ کیا گیا تو وہ باقی اٹھارہ خواتین اور تین مردوں کو بھی مار دیں گے۔ کسی نامعلوم مقام سے خبررساں ادارے رائٹرز سے ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے طالبان کے ترجمان قاری محمد یوسف نے کہا کہ ’ کرزئی امریکہ گئے ہوئے ہیں اور یہ ممکن ہے کہ وہ بُش کے ساتھ کوریائی باشندوں کی رہائی کے تبادلے میں قیدیوں کی رہائی پر متفق ہوں کیونکہ کرزئی اور بش ہی ان باشندوں کے اغوا کے ذمہ دار ہیں۔‘ جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر صدر کرزئی اور صدر بش کوریائی باشندوں کے بدلے میں قیدیوں کی رہائی پر متفق نہیں ہوتے تو طالبان کیا کریں گے تو قاری یوسف نے کہا ’ تب اس کی ذمہ داری کرزئی اور بش پر ہو گی۔‘ پاکستان کی تردید اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار انتخاب امیر کے مطابق پیر کے روز ہفتہ وار پریس بریفنگ میں محکمہ خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے کہا کہ جنوبی کوریا کی حکومت کا اپنے مغوی شہریوں کے لیے حکومتِ پاکستان سے رابطہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی غلط دروازے پر دستک دے ۔ جب ترجمان کی توجہ افغانستان کے صوبہ غزنی کے گورنر کے بیان کی طرف دلائی گئی جس میں انہوں نے الزام لگایا کہ کوریائی باشندوں کے اغوا میں پاکستان اور اس کی خفیہ ایجنسی کا ہاتھ ہے تو تسنیم اسلم نے اس بیان کو ٌمضحکہ خیز ٌ قرار دیا۔
واضح رہے کہ اتوار کو افغانستان کے صوبے غزنی کے گورنر نے الزام عائد کیا تھا کہ جنوبی کوریا کے تئیس باشندوں کو اغواء کرنے والے طالبان پاکستانی ہیں اور ان کا تعلق پاکستانی خفیہ ادارے آئی ایس آئی سے ہے۔ ادھر صدر حامد کرزئی امریکی صدر بش کے ساتھ دو روزہ بات چیت کے لیے امریکہ پہنچ چکے ہیں۔ دونوں رہنماء افغانستان میں بڑھتے ہوئے تشدد اور بین الاقوامی افواج کے ہاتھوں شہریوں کی ہلاکتوں کے بارے میں گفتگو کرینگے۔ شہریوں کی ہلاکتیں افغان صدر کی کوشش یہ بھی ہے کہ امریکہ پاکستان پر مزید دباؤ ڈالے تاکہ غیرملکی مزاحمت کار پاکستانی سرحد کے ذریعے افغانستان میں داخل نہ ہوسکیں۔ صدر کرزئی اور صدر بش کے درمیان ہونے والے دو روز کے مذاکرات کو طالبان مخالف ’لائحہ عمل‘ تیار کرنے کی ملاقات قرار دیا گیا ہے۔ امید کی جارہی ہے کہ جارج بش افغان صدر سے کہیں گے کہ وہ پورے ملک میں اپنی حکومت فعال بنائیں تاکہ کرپشن کا صفایا ہوسکے۔ اس سال امریکہ دس بلین ڈالر افغانستان کو دے رہا ہے تاکہ افغان سکیورٹی فورسز کی تربیت ہوسکے۔ بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ امریکی صدر افغانستان میں ’نتائج‘ دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہمارے نامہ نگار کے مطابق امریکہ اس بات پر بھی فکرمند ہے کہ ایران افغانستان میں طالبان کو اسلحہ فراہم کررہا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||