BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 08 August, 2007, 07:40 GMT 12:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کوریائی سربراہان کی تاریخی ملاقات
شمالی اور جنوبی کوریائی صدور
دونوں ممالک کے سربراہان کے درمیان اپنی نوعیت کی یہ پہلی ملاقات ہے
شمالی اور جنوبی کوریا کے حکام کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے سربراہان اگست کے اختتام پر ملاقات کریں گے۔ کوریائی ممالک کی تاریخ میں یہ اپنی نوعیت کی دوسری ملاقات ہو گی۔

اٹھائیس سے تیس اگست تک دونوں ممالک کے مابین شمالی کوریا کے دارالحکومت پیانگ یانگ میں ہونے والے ایک اجلاس میں جنوبی کوریا کے صدر روہ موہ ہیون بھی شرکت کریں گے اور اپنے شمالی کوریائی ہم منصب کِم ژانگ اِل سے ملاقات کریں گے۔

اس سے قبل دونوں ممالک کے سربراہان کے درمیان ملاقات سات سال قبل ہوئی تھی۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس ملاقات سے دونوں ممالک کے درمیان سالوں سے جاری محاذ آرائی کے خاتمے اور بہتر تعلقات قائم کرنے کی جانب پیش رفت ہو گی۔

یہ اجلاس ایک ایسے وقت میں منعقد ہو رہا ہے جب شمالی کوریا کے دیگر ممالک کے ساتھ روابط میں ماضی کی نسبت بہتری آئی ہے۔ گزشتہ ماہ شمالی کوریا نے ایٹمی ہتھیاروں سے غیر مسلح ہونے کے عوض امداد کے ایک بین الاقوامی معاہدے کے بعد یانگ بیانگ کے مقام پر قائم جوہری ری ایکٹر بند کر دیا تھا۔

کوریائی خطے کے سربراہان کے درمیان یہ ملاقات جنوبی کوریا کے جاسوسی ادارے کے اعلیٰ عہدیداروں کے شمالی کوریا کے دو دوروں کے بعد طے پائی ہے۔

جنوبی کوریا کے صدارتی دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس ملاقات سے دونوں کوریائی ممالک میں امن اور ترقی کے نئے دور کا آغاز ہو گا۔ شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے بھی اس ملاقات کو کوریائی خطے میں پرامن دور کے آغاز کی کڑی قرار دیا ہے۔

اس ملاقات کا ایجنڈا طے کرنے کے لیے دونوں اطراف کے سرکاری اہلکار کائسنگ کے سرحدی علاقے پر مزید ملاقاتیں کریں گے جہاں پر دونوں ممالک مشترکہ طور پر ایک صنعتی پارک چلا رہے ہیں۔

جنوبی کوریائی صدر کے سکیورٹی کے مشیر بائیک جانگ چن کے مطابق دونوں صدور خطے میں قیامِ امن اور فوجی اعتماد سازی پر بات چیت کریں گے۔ دونوں ممالک کے درمیان 1950 سے 1953 تک کی جنگ کے بعد سے باہمی امن کے کسی بھی معاہدے پر دستخط نہیں ہوئے۔

امریکی حکومت نے شمالی اور جنوبی کوریا کے سربراہان کے درمیان اس ملاقات کا خیر مقدم کیا ہے اور اس کی حمایت کے اعلان کیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد