BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 14 July, 2007, 23:44 GMT 04:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شمالی کوریا نے ری ایکٹر بند کردیا
یونگ بینون ری ایکٹر
شمالی کوریا نے گزشتہ برس پہلی بار جوہری ٹیسٹ کیا تھا
امریکی محکمۂ خارجہ کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا نے اسے مطلع کیا ہے کہ اس نے اپنے جوہری ری ایکٹر کو بند کر دیا ہے۔

محکمۂ خارجہ کے ترجمان سین میکورمیک کا کہنا تھا کہ امریکہ کو شمالی کوریا کے ری ایکٹر کے بند ہونے کی اطلاع تو مل گئی ہے لیکن اب وہ ایٹمی توانائی کے عالمی ادارے کی طرف سے اس خبر کی تصدیق کے انتظار میں ہے۔

بین الاقوامی ادارے کی ایک ٹیم یانگ بیون میں اس ری ایکٹر کی بندش کی نگرانی کر رہی ہے۔ یہ ری ایکٹر فروری میں ہونے والی ایک ڈیل کے تحت بند کیا گیا ہے۔

شمالی کوریا کی طرف سے اس جوہری پلانٹ کے بند ہونے سے کچھ گھنٹے قبل، شمالی کوریا نے تیل کی ایک بڑی کھیپ وصول کی جواس اقتصادی امداد کا ایک حصہ تھی جس کا وعدہ ری ایکٹر کو بند کرنے کے بدلے میں کیا گیا تھا۔

اقوامِ متحدہ کے ایٹمی توانائی کے ادارے کا عملہ شمالی کوریا سے یونگ بیون کے لیے روانہ ہوگیا ہے جہاں وہ ری ایکٹر کو باضابطہ طور پر بندی کر دے گا اور پورے پلانٹ کو سربمہر کرے گا۔

عالمی ادارے کے سربراہ محمد البرادعی نے اس پیش رفت کو سراہتے ہوئے کہا کہ جوہری تنازعات کو حل کرنے کا بہترین طریقہ مکالمہ ہے۔

انہوں نے کہا ’جتنا لوگ ایک دوسرے سے براہِ راست بات چیت کریں اتنا ہی اچھا ہے۔ خواہ وہ شمالی کوریا کے ساتھ ہو یا ایران کے ساتھ۔ میں امریکہ کو ایران کے ساتھ آمنے سامنے بات کرتے ہوئے دیکھنا چاہتا ہوں کیونکہ مکالمہ معاملوں کو سلجھانے کا ایک طریقہ ہے‘۔

امریکی دفترِ خِارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکہ اس پیش رفت کا خیر مقدم کرتا ہے اور عالمی ادارے کی طرف سے ری ایکٹر کے بند کیے جانے کی تصدیق کے انتظار میں ہے۔

سول میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اس کام کی تکمیل میں دو سے تین ہفتے لگ سکتے ہیں۔

جنوبی کوریا نے گزشتہ برس جوہری ٹیسٹ کیا تھا اور کہتا رہا ہے کہ امریکی حملے سے بچنے کے لیے اسے جوہری ہتھیار درکار ہیں۔

بدھ کو اس عمل کے اگلے مرحلے کے سلسلے میں بیجنگ میں مذاکرات ہوں گے جن میں امریکہ، جنوبی اور شمالی کوریا، روس، جاپان اور چین شریک ہوں گے۔

پاکستان اور طالبان
امریکی کانگریس میں پاکستان پر نیا بِل
تناؤ کی تاریخ
شمالی کوریا کے جوہری دھماکے سے پہلے کیا ہوا
قذافیقذافی کا شکوہ
مغرب نے لیبیا کو مایوس کیا
نیوکلیئرجوہری بلیک مارکیٹ
ایٹمی سمگلنگ کا خطرہ بڑھ گیا ہے: ماہرین
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد