BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 06 March, 2007, 14:01 GMT 19:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مغرب نے لیبیا کو مایوس کیا: قذافی
مغرب نے لیبیا کو مایوس کیا
قذافی کا کہنا ہے کہ امریکہ اپنا وعدہ پورے نہیں کر سکا۔
لیبیا کے ایک قصبے صبہا میں بی بی سی کے سفارتی امور کے خصوصی نامہ نگار جیمز رابنز سے ایک غیر خصوصی انٹرویو کے دوران کرنل معمر قذافی نے کہا ہے کہ سن دو ہزار تین میں وسیع تباہی کے ہتھیاروں سے دستبردار ہونے کے بعد ان کے ملک کو مناسب معاوضہ نہیں دیا گیا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ قذافی اب ایک مختلف شخصیت کےمالک ہیں۔

اس دفعہ جب صہبا کے گاؤں میں ہماری ملاقات خیمے کی بجائے ایک جدید کانفرنس روم میں ہوئی تو قذافی مجھے ایک بہت ہی روایتی سیاستدان معلوم ہوئے جبکہ وہاں پرکوئی بھی خاتون باڈی گارڈ نہیں تھیں۔

برطانیہ اور امریکہ اب لیبیا کے رہنما کوایک ماڈل کے طور پر پیش کر رہے ہیں کہ دنیا کے باقی ممالک بھی انکے نقش قدم پر چلیں۔

لیبیا کی جانب سے دہشت گردی کو رد کرنےاور سن دو ہزار تین میں وسیع تر تباہی پھیلانے والے جوہری ہتھیاروں سے دستبردار ہونے کے بعد اس پر لگا ئی گئی پابندیاں ختم کر دی گئی تھیں اور اسے قابل نفرت مقام سے نجات مل گئی تھی۔

مگر معمر قذافی اب بھی ایک جنگجو انسان بن سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ لیبیا کو مناسب معاوضہ نہیں دیا گیا ہے اس لئے ایران اور شمالی کوریا ہماری پیروی نہیں کریں گے،۔

’امریکہ اور برطانیہ نے جو وعدے کیے تھے ان کوابھی تک پورا نہیں کیا ہے۔،

’اس لیے ان ممالک نے کہا ہے کہ ہم لیبیا کے مثال کی پیروی نہیں کریں گے کیونکہ لیبیا بغیر کسی معاوضے کے جوہری ہتھیار بنانے سے دستبرداد ہوگیاتھا جس کی وجہ سے یہ ماڈل تباہ ہوا اور نتیجے میں اب کوئی بھی اس کی پیروی نہیں کرے گا۔،

لیبیا کو مناسب معاوضہ نہیں دیا گیا ہے اس لئے ایران اور شمالی کوریا ہماری پیروی نہیں کریں گے۔امریکہ اور برطانیہ نے جو وعدے کیے تھے ان کوابھی تک پورا نہیں کیا ہے۔
کرنل قذافی
میں نے ان سے پوچھا کہ امریکہ اور برطانیہ کو ان کے لیے مزید کیا کچھ کرنا چاہیے اور وہ اب تک کیا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

تو کرنل قذافی نے کہا کہ ” ہم نے برطانیہ، امریکہ اور یورپی یونین کی جانب سے لیبیا میں پاور سٹیشن قائم کرتے ہوئے نہیں دیکھا کہ وہ ہمارے اسلحے کی مقاصد کے لیے قائم پروگرام کو پرامن پروگرام میں تبدیل کر دیں،۔

”مجھے یقین ہےکہ لیبیا کے تمام لوگوں کا خیال ہےامریکہ اوربرطانیہ جیت گئے جبکہ ہم ہار چکے ہیں،۔

تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ لیبیا اپنے سابقہ مؤقف کی طرف جا رہا ہے۔

ہو سکتا ہے کہ قذافی نے یہ سودابازی اس لیے کی ہو تاکہ ملک میں بیرونی سرمایہ کاری ہو مگر دہشت گردی اس معاملے سے خارج ہے۔

قذافی کا اثر لیبیا میں زندگی کے ہر پہلو میں نظرآتا ہے۔
”لیبیا کبھی پیچھے نہیں جائے گا۔مجھے یقین ہے کہ تشدد اور تصادم کی فضااب ماضی کا حصہ بن چکی ہے،۔

کرنل قدافی نےگفتگو کے دوران برطانوی وزیراعظم کی طرف ”میرے دوست ٹونی بلئیر” کہہ کراشارہ کیا جبکہ عراق کی صورتحال پرانہوں نے سخت تنقید کی۔

” وہاں کی صورتحال کو سب جانتے ہیں اس بارے میں میرے وضاحت کی کوئی ضرورت نہیں ہے،۔

”پوری دنیا کا موقف امریکہ کے لوگوں کے ساتھ ایک ہے ہماری ہمدردیاں صرف عراقی عوام کے ساتھ نہیں بلکہ ان امریکی عوام کے ساتھ بھی ہیں جو ایک ایسی جنگ کی قیمت ادا کرچکے ہیں جنکی بنیاد جھوٹ پر کھڑی ہے،۔

”ہزاروں امریکی غلط معلومات فراہم کرنے کی وجہ سے مارے جا چکے ہیں۔ان لاکھوں عراقی شہریوں کو کون واپس لا ئے گا؟جوکچھ عراق میں ہوا اس نے دنیا کے تمام لوگوں کو غیر محفوظ ہونے کا احساس دلایا،۔

تاہم جب میں نے ان سے یہ سوال کیا کہ کیا اب بھی یہ ممکن ہے کہ لیبیا مغربی دنیا کے ساتھ باہمی مفادات کی بنیاد پر ترقیاتی منصوبوں میں حصہ لے تو کرنل قدافی نے زور دیتے ہوئے کہا کہ”ہاں یہ ممکن ہے اور ہم اس کے لئے کوششیں کر رہے ہیں”۔

 لیبیا کے تمام لوگوں کا خیال ہےامریکہ اوربرطانیہ جیت گئے جبکہ ہم ہار چکے ہیں،۔
معمرقذافی
کرنل قدافی پر اپنے عوام اور بیرونی طاقتوں کا دباؤ ہے کہ وہ اپنے ملک میں معاشی اصلاحات کی ترویج پر توجہ دیں جبکہ گیس اور تیل پر انحصار کم کریں اور لوگوں کوحقییقی اختیارات میں حصہ دار بنائیں۔

وہ گزشتہ چالیس سال سے اقتدار میں ہیں۔اس جمعے کو وہ اپنے متعارف کردہ سیاسی نظام ”جماہریہ” کے تیس سال منا رہے ہیں۔

وہ اسے ”براہ راست جمہوریت” کا نام دیتے ہیں جس میں اختیارات لوگوں کے پاس ہیں مگر مخالفین اسں کوآمریت کے لئے ایک خول قرار دیتے ہیں۔

کرنل قذافی کا کہنا ہے کہ میں اس دن کے انتظار میں ہوں جب لیبیا کےلوگوں کو میری قیادت کی مزید ضرورت نہیں رہے گی۔

مگر انہوں نے طاقت کو چھوڑنے کا کوئی اشارہ نہیں دیا۔

کرنل معمر قذافی لیبیا کی نئی کروٹ
کرنل معمر قذافی کے لیبیا کے مختلف رنگ
چوبیس سال بعد
امریکہ اور لیبیا کے سفارتی تعلقات بحال
بارودی سرنگصحرا میں موت
’ٹانگ بازو اُُڑ جاتے ہیں، بچّے مرجاتے ہیں‘
اسی بارے میں
کرنل قذافی کا لیبیا
16 May, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد