BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لیبیا کے مختلف رنگ

کرنل معمر قذافی
قذافی کے فوجی انقلاب کے بعد لیبیا نے کئی مدو جزر دیکھے

شن حال؟ شن امور ؟ شن جو ؟ کیف صحہ؟ کیف امور ؟ حال باہی؟ صحہ تمام ؟ امور طیہب ؟ میاہ میاہ ؟ اور اگر آپ مقامی نہیں ہیں تو پھر دو مزید سوالوں کا اضافہ کر لیں۔ بمبینو کوئز، فیملی کوئز ؟

یہ ہیں وہ تمام سوالات جو کم و بیش ہم معنی ہیں۔ جب آپ کسی لیبین دوست سے ملتے ہیں تو آپ سے یہ سوالات پوچھے جاتے ہیں اور ان کا جواب آپ کو بلا مبالغہ پانچ سکینڈ میں دینا ہوتا ہے۔ اور اگر آپ کی ملاقات لمبے عرصے کے بعد ہوئی ہے تو پھر یہ تمام سوالات کئی بار دہرائے جائیں گے اور جب تک دوست کو یہ یقین نہ آ جائے کہ آپ سچ کہہ رہے ہیں وہ آپ سے یہ سب پوچھتا چلا جائے گا۔

بہت سے لوگوں کے لیے جو ’ ہور کی حال ہے‘ یا ’ہور سناؤ‘ سے ہی اکتاہٹ محسوس کرتے ہیں یہ سب کچھ کسی سزا سے کم نہیں۔ بہتوں نے تو اس کا حل یہ نکالا ہے کہ کسی لیبین دوست سے ملتے ہی کہتے ہیں اللہ کی قسم سب ٹھیک ٹھاک ہے۔ اب آگے بات کرو۔

لیکن لیبیا والے بھی کیا کریں، ان کے پاس کوئی سیاسی جماعت ہے نہ کوئی نجی اخبار، نہ کوئی ڈکیتی اور قتل کی خبریں ہیں، نہ شیعہ، سنی، دیو بندی، بریلوی فرقوں کے مسئلے، ایل ایف او ہے نہ کوئی ایم ایم اے۔ کرکٹ ہے نہ کوئی لیبیا کا ہندوستان۔ بیچارے حال احوال پوچھ کر ہی باتوں کا کوٹہ پورا کرتے ہیں۔

لیبیا
لیبیا اب عالمی برادری میں واپس آ رہا ہے

1951 میں دنیا کے سب سے غریب ملک کی، جس کی فی کس آمدنی صرف پچاس ڈالر سالانہ تھی، تیل کی دریافت نے کایا ہی پلٹ دی اور لیبیا دنیا کے امیر ترین ملکوں میں شمار ہونے لگا۔ آج اس ملک میں دنیا میں انسان کا بنایا ہوا سب سے بڑا دریا جس کی لاگت کا اندازہ پچیس بلین ڈالر سے زائد ہے تکمیل کے قریب ہے۔ یہ چار میٹر قطر کی پائپ لائن جو صحرا کے بیچ سے گزرتی ہے ساحلی علاقوں کو پانی پہنچاتی ہے۔

لیبیا کے موجودہ سربراہ معمر قذافی یکم ستمبر 1969 کو شاہ ادریس کا تختہ الٹنے کے بعد لیبیا کے سربراہ بن گئے اور نئے برانڈ کی جمہوریت متعارف کروائی جس میں وہ آج چونتیس سال گزرنے کے بعد بھی حکومت کر رہے ہیں۔ اس انقلاب کو ’الفتح الابدا‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اور ہر سال قومی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔

انقلاب کے بعد حکومت نے ہر چیز قبضہ میں لے لی۔ اسکول، ہسپتال، فیکٹریاں، تیل کی کمپنیاں الغرض جو بھی پیداواری ادارہ تھا وہ حکومت نے لے لیا۔ ’الشرکا لااجراء‘ (اجرت نہیں شراکت داری) ’البیت للساکناں‘ (مکان اس کا جو اس میں رہتا ہے) یہ اور اس طرح کے کئی بڑے بڑے بورڈ پورے لیبیا میں نظر آتے ہیں۔ یہ تمام اقتباسات معمر قذافی کی کتاب ’کتاب الاحضر‘ یا گرین بک سے لئے گئے ہیں۔

گرین بک میں قذافی جمہوریت اور شوشل ازم کو اپنے انداز میں پیش کرتےہیں۔ دراصل یہی کتاب لیبیا کے قانون کی مآخذ ہے۔

گرین بک
لیبیا کی گرین بک جس میں جمہوریت اور سوشلزم کو ایک منفرد انداز میں پیش کیا گیا ہے

سن ستر اور اسی کی دہائیوں میں لیبیا نہایت خوشحال ملک تھا۔ اس ملک کا ہر شہری حکومت کے پے رول پر تھا، کام کرے یا نہ کرے اسے تنخواہ ملتی تھی۔ تعلیم اور صحت کی عمدہ سہولتیں لوگوں کو میسر تھیں۔ کوئی ٹیکس نہیں تھا لیکن اس سب کے باوجود ایک خوف تھا ایک پر اسراریت تھی۔ حکومت کے خلاف بولنا جرم سمجھا جاتا تھا، یہاں تک کے ذاتی محفلوں میں بھی لوگ اس سے گریز کرتے تھے۔ غیر ملکیوں، خصوصاً مغربی لوگوں کا ملک میں آنا جانا زیادہ پسند نہیں کیا جاتا تھا۔

سب سے بڑا کنفیوژن مذہب کے بارے میں تھا۔ باہر کی دنیا میں قذافی کا امیج ایک مذہبی شخص کا تھا۔ جب کہ ملک میں باقاعدگی سے نماز پڑھنے والے بھی حکومت کی نظروں میں آجاتے ہیں۔ مردوں کی داڑھی اور عورتوں کا حجاب دونوں ہے حکومت کے نا پسندیدہ عمل تھے۔ اسی لیےلیبیا میں مردوں کی اکثریت کلین شیو نظر آتی ہے۔

لیبیا کے معیشیت پر امریکہ اور اقوام متحدہ کی پابندیوں نے بہت برا اثر ڈالا۔ اسکی وجہ سے حکومت نے وہ سہولتیں جو عوام کو دے رکھی تھیں آہستہ آہستہ واپس لینا شروع کر دیں۔ مختلف قسم کے ٹیکس لگ گئے۔ بغیر کام کئے جو تنخواہ ملتی تھی اب کام کر کے بھی اس سے آدھی ملنے لگی۔ نوجوانوں میں بے روزگاری بڑھ گئی ہے اور وہ حکومت کو اس کا ذمہ دار قرار دینے لگے لیکن حکومت کی سخت گیری کی وجہ سے کھل کر کوئی بھی بات نہیں کر سکتا تھا۔ لیکن پھر بھی آج کا نوجوان حکومت کے خلاف وہ باتیں کرگزرتا ہے جو آج کا ادھیڑ عمر اپنے بیڈ روم میں بھی کرتے ہوئے ڈرتا تھا۔

لیبیا انقلاب کے بعد
انقلاب کے بعد حکومت نے ہر چیز قبضہ میں لے لی۔ اسکول، ہسپتال، فیکٹریاں، تیل کی کمپنیاں الغرض جو بھی پیداواری ادارہ تھا وہ حکومت نے لے لیا۔ ’الشرکا لااجراء‘ (اجرت نہیں شراکت داری) ’البیت للساکناں‘ (مکان اس کا جو اس میں رہتا ہے) یہ اور اس طرح کے کئی بڑے بڑے بورڈ پورے لیبیا میں نظر آتے ہیں۔ یہ تمام اقتباسات معمر قذافی کی کتاب ’کتاب الاحضر‘ یا گرین بک سے لئے گئے ہیں۔

طرابلس کے مبروک علی جو ایک بین الاقوامی کمپنی میں کام کرتے ہیں اپنی انگلش کی خرابی کی وجہ بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ 88 - 1987 میں جب وہ سیکنڈری جماعت میں پہنچے تو انگریزی کی تعلیم شروع ہوئی۔ یہ ہمارے لیے بہت مشکل چیز تھی لیکن پھر ہماری یہ مشکل جلد ہے حل ہو گئی۔ ایک حکم نامہ آیا اور انگریزی کی ساری کتابیں اکھٹی کرنے کو کہا گیا۔ پھر ان ساری کتابوں کو اسکول کے ایک کونے میں رکھ کر آگ لگا دی گئی۔ ہم سب نے خوشی سے ’الفتح، الفتح‘ کے نعرے لگائے۔ اس وقت تو ہمیں خوشی تھی کہ ہماری جان انگریزی سے چھوٹ گئی۔ لیکن آج احساس ہوتا ہے کہ وہ حکم نامہ اور ہماری خوشی دونوں غلط تھے۔ ہمارے ساتھ اس وقت ظلم کیا گیا۔ اب آہستہ آہستہ پھر انگریزی تعلیم شروع کی جا رہی ہے۔ اور مجھے یقین ہے کہ اگر حکومت سے آپ پوچھیں کہ اس کا کونسا فیصلہ صیحح تھا۔ کتابیں جلانے والا یا پھر کتابیں شروع کرنے والا تو وہ کہی گی، ’اس وقت وہ فیصلہ صیحح تھا اور اس وقت یہ فیصلہ صیحح ہے‘۔

لیبیا کا صحرا
لیبیا کا پچانوے فیصد علاقہ صحرا ہے

لیبیا اب ایک نئی کروٹ لے رہا ہے۔ تین دہائیوں کی تنہائی کے بعد اب لگتا ہے حکومت کو احساس ہو گیا ہے کہ آج کی دنیا میں اس کی پالیساں نہیں چل سکتیں۔ اس نے امریکہ کو مطلوب دونوں افراد کو عالمی عدالت انصاف میں پیش کر دیا اور ورثاء کو معاوضہ دینے کا اقرار کیا۔ اس سے لیبیا پر عائد چودہ سالہ اقتصادی پابندیوں کا خاتمہ ہو گیا۔ یہی نہیں حال ہی میں لیبیا نے اپنا جوہری پروگرام ختم کرنے کا اعلان کیا اور ساتھ ہی اقوامِ متحدہ کے اسلحہ کے معائنہ کاروں کو ملک میں آ کر پروگرام کی پڑتال کرنے کی دعوت دی۔

اب قذافی کا رویہ بیرونی دنیا اور خصوصاً مغرب کے بارے میں کافی بدل چکا ہے۔ اب مغرب سے لوگوں کو خوش آمدید کہا جانے لگا ہے۔ نئے پرائیویٹ ہسپتال کھل رہے ہیں، پرائیویٹ اسکول کھل رہے ہیں، مذہب پر عمل کرنے والے بھی نسبتاً آسانی سے عمل کر رہے ہیں اور بازاروں میں لڑکیاں مغربی لباس پر حجاب پہنے عام نظر آتی ہیں۔

بن غازی کے صالح کے شانتا بتاتے ہیں کہ جب قذافی نے ’البیت للساکناں‘ یعنی گھر اس کا جو اس میں رہتا ہے کا نظریہ دیا تو بہت سے لوگ جو کرایہ دار تھے مالک بن بیھٹے۔ اس کا نقصان یہ ہوا کہ لوگوں نے مکان کرائے پر دینے چھوڑ دئیے۔ اب اس کا خمیازہ موجودہ نسل بھگت رہی ہے۔ لیبیا میں شادی سے پہلے لڑکی والوں کا مطالبہ ہوتا ہے الگ مکان ۔ اپنا مکان بنانا مشکل اور کرایہ پر کوئی دیتا نہیں اس سے نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کی شادیوں میں تاخیر ہونا شروع ہوگئی اور معاشرتی طور پر اس کی خرابیاں سامنے آنے لگیں۔ گرین بک ان کا کوئی حل نہ دے سکی اور ضرورت نے اپنے راستے خود بنا لیے۔

مراکش سے ہزاروں لڑکیاں ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس میں ویٹریسزز کے طور پر آئیں اور پھر یہاں طوائفیں بن گئیں۔ حکومت اس سے باخبر ہوتے ہوئے بھی چشم پوشی کا مظاہرہ کرتی رہی۔

ان سب باتوں کے باوجود لیبیا کا عالمی برادری میں واپس آنا دنیا کے اس خطے کے لیے ایک بہت اچھی خبر ہے۔ اس سے نہ صرف عام لیبین کی بہتری ہو گی بلکہ کرنل قذافی کے اس خواب کی تکمیل میں بھی مدد ملے گی جو یونائیٹڈ سٹیس آف افریقہ کے متعلق ہے۔

اس وقت لیبیا کے تیل کی آمدنی کا بہت بڑا حصّہ اس خواب کو حقیقت بنانے میں صرف ہو رہا ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد