امریکہ اور لیبیا تعلقات بحال | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ نے چوبیس سال بعد کرنل قدافی کی حکومت کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال کر لیے ہیں۔ اس بات کا انکشاف امریکہ کے معاون وزیرِ خارجہ ولیمز برنز نے طرابلس میں قدافی کی انتظامیہ سے بات چیت کے بعد کیا۔ ولیم برنز طرابلس میں امریکہ کے رابطہ دفتر کے افتتاح کے لیے گئے تھے۔ دسمبر میں وسیع تباہی کے ہتھیاروں کو ترک کرنے کے اعلان کے بعد سے لیبیا اور مغربی ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری آئی ہے۔ ولیم برنز نے کہا کہ امریکہ میں اپنی نمائندگی کا فیصلہ لیبیا خود کرے گا۔ طرابلس میں مذاکرات کے دوران ولیم برنز نے امریکی صدر جارج بش کا ایک خط بھی لیبیائی اہلکاروں کے حوالے کیا جسے بعد میں لیبیا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے نشر کیا۔ اس خط میں صدر بش نے امریکہ اور لیبیا کے ماہرین کے درمیان وسیع تباہی کے ہتھیاروں کو ختم کرنے کے تعاون کا خیر مقدم کیا۔ کرنل قدافی سے ملاقات کے دوران ولیم برنز نے لیبیا کے سعودی ولی عہد پرنس عبداللہ کو قتل کرنے کے مبینہ منصوبے کا بھی ذکر کیا۔ امریکہ کے دفترِ خارجہ کے ترجمان ایڈم ایرل نے بعد میں کہا کہ واشگنٹن نے لیبیا کو اس خبر کے بارے میں اپنے تحفظات سے پھر آگاہ کیا ہے اور اسے یاد دلایا ہے کہ طرابلس نے سیاسی مقاصد کے لیے تشدد اختیار نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||