BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 29 June, 2004, 11:50 GMT 16:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریکہ اور لیبیا تعلقات بحال
News image
امریکہ نے چوبیس سال بعد کرنل قدافی کی حکومت کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال کر لیے ہیں۔

اس بات کا انکشاف امریکہ کے معاون وزیرِ خارجہ ولیمز برنز نے طرابلس میں قدافی کی انتظامیہ سے بات چیت کے بعد کیا۔ ولیم برنز طرابلس میں امریکہ کے رابطہ دفتر کے افتتاح کے لیے گئے تھے۔

دسمبر میں وسیع تباہی کے ہتھیاروں کو ترک کرنے کے اعلان کے بعد سے لیبیا اور مغربی ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری آئی ہے۔

ولیم برنز نے کہا کہ امریکہ میں اپنی نمائندگی کا فیصلہ لیبیا خود کرے گا۔

طرابلس میں مذاکرات کے دوران ولیم برنز نے امریکی صدر جارج بش کا ایک خط بھی لیبیائی اہلکاروں کے حوالے کیا جسے بعد میں لیبیا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے نشر کیا۔

اس خط میں صدر بش نے امریکہ اور لیبیا کے ماہرین کے درمیان وسیع تباہی کے ہتھیاروں کو ختم کرنے کے تعاون کا خیر مقدم کیا۔

کرنل قدافی سے ملاقات کے دوران ولیم برنز نے لیبیا کے سعودی ولی عہد پرنس عبداللہ کو قتل کرنے کے مبینہ منصوبے کا بھی ذکر کیا۔

امریکہ کے دفترِ خارجہ کے ترجمان ایڈم ایرل نے بعد میں کہا کہ واشگنٹن نے لیبیا کو اس خبر کے بارے میں اپنے تحفظات سے پھر آگاہ کیا ہے اور اسے یاد دلایا ہے کہ طرابلس نے سیاسی مقاصد کے لیے تشدد اختیار نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد