لیبیا پر امریکی پابندیاں ختم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدر جارج بش نے امریکہ کی طرف سے لیبیا پر لگائی گئی تجارتی پابندی ختم کر دی ہے۔ یہ اقدام لیبیا کی جانب سے وسیع تر تباہی کے ہتھیاروں سے دستبردار ہونے کے حالیہ اعلان کے بعد کیا گیا ہے۔ اس ضمن میں بیشتر پابندیاں اپریل میں اس وقت معطل کر دی گئیں تھیں جب لیبیا نے ہتھیاروں کا منصوبہ ترک کرنےکا اعلان کیا تھا۔ لیبیا سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ انیس سو اٹھاسی میں امریکی ایئر لائن پین ایم کی فلائٹ ایک سو تین کو لاکربی پر بم سے اڑانے کے واقعہ کے متاثرین کو ہرجانے میں ایک ارب ڈالر کی رقم ادا کرے گا۔ تاہم امریکہ کی طرف سے دہشت گردی کے حوالے سے لیبیا پر عائد کردہ متعدد پابندیاں اب بھی برقرار ہیں۔ لیبیا لاکربی میں امریکی جہاز کو بم سے اڑانے کی ذمہ داری قبول کر چکا ہے۔ اس نے دھمکی دی ہے اگر بدھ تک پابندیاں ختم نہ کی گئیں تو واقعہ کے متاثرین کو ہرجانے کی رقم ادا نہیں کرے گا۔ امریکی صدر جارج بش نے باضابطہ طور پر تمام پابندیاں ختم کر دیں تھیں جن سے تجارت، شہری ہوا بازی اور لیبیا سے تیل کی درآمد متاثر ہوئی تھی۔ اس کے علاوہ امریکہ میں موجود لیبیا کے منجمند اثاثوں کو واگزار کر دیا گیا ہے۔ خبر رساں ایجنسی اے ایف پی نے امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان کے حوالے سے بتایا ہے کہ ’یہ قدم لیبیا کی ان کوششوں کے جواب میں اٹھایا ہے جو اس نے ہتھیاروں سے متعلق بین الاقوامی برادری کی تشویش دور کرنے کے سلسلے میں کی ہیں۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||