BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 31 July, 2004, 12:13 GMT 17:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’قدافی نےعبداللہ کو مروانا چاہا‘
معمر قدافی
لیبیا کے رہنماء معمر قدافی پر دہشت گردی کا ایک الزام
امریکی شہری عبدالرحمن المودی نے امریکی عدالت کو بتایا ہے کہ وہ سعودی عرب کے اصل حکمران، شہزادہ عبد اللہ کو قتل کرانے کی لییبائی سازش میں شریک تھا۔

عبدالرحمن المودی نے جو ایک مشہور مسلمان امریکی ہیں، عدالت میں کیے گئے معائدے (پلی بارگین ) میں کہا ہے لیبیا کے رہنما معمر قدافی کی طرف سے کی گئی شازش جس میں سعودی عرب کے اصل حکمران ، شہزادہ عبداللہ کو قتل کرایا جانا تھا میں وہ بھی شریک تھا اور اس نے اس کام کے لیبیا کی حکومت لاکھوں ڈالر وصول کیے تھے۔

عبدالرحمن المودی جو امریکن مسلم کونسل اور امریکن مسلم فانڈیشن کے بانی ہیں نے عدالت کے سامنے اپنے جرم کا اقرار کیا ہے۔

امریکی اٹارنی جنرل جان اشکرفٹ نے کہا کہ اس ’پلی بارگین ‘کے نتیجے میں دہشت گردی کے بارے میں اہم معلومات ملی ہیں۔

عبدالرحمن المودی نے عدالت کو بتایا کہ وہ لیبیا حکومت اور سعودی عرب میں شاہی خاندان کے دشمنوں کے درمیان ایک رابطہ تھے ۔

امریکی محکمہ انصاف کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے لیبیا کے رہنما معمر قدافی نےعرب لیگ کے 2003 اجلاس کے بعد شہزادہ عبداللہ کو قتل کرانے کا منصوبہ بنایا تھا۔

عرب لیگ کے اجلاس میں سعودی شہزادہ عبداللہ اور لیبیا کے رہمناء میں اس وقت جھڑپ ہوئی تھی جب معمر قدافی نے سعودی عرب میں امریکی فوجوں کی تعنیاتی کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

عبدالرحمن المودی نے کہا کہ عرب لیگ کے اجلا س کے بعد اس کو ترایپولی میں بلایا گیا جہاں لیبیا کے کچھ نامعلوم حکام نے ان سے کہا کہ وہ ان کی سعودی عرب کے کچھ ایسے لوگوں سے ملاقات کروائیں جو سعودی حکمرانوں کے لیے ’سردردی‘ کا سبب بن سکیں۔

عبدالرحمن المودی نے کہا جوں جوں یہ سازش آگے بڑھتی گئی ان کو پتہ چلا کہ اس سازش کا اصل مقصد سعودی عرب کے اصل حکمران شہزادہ عبداللہ کو قتل کرانا تھا۔

عبدالرحمن المودی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ لیبیا کی حکومت کی طرف سے رقم ملنے کے بعد اس نے لندن میں رہائش پذیر سعودی عرب کے دو شہریوں سے رابطہ کیا اور ان کو لاکھوں ڈالر کی خطیر رقم مہیا کی۔

عبدالرحمن المودی کو اگست 2003 میں لندن کے ہیتھرو ایرپورٹ پر تین لاکھ چالیس ہزار ڈالر سمیت گرفتار کیا گیا تھا۔

برطانوی حکام نے رقم کو ضبط کرنے کے بعد عبدالرحمن المودی کو سفر جاری رکھنے کی اجازت دے دی تھی جس کے دوران انہوں نے شام، مصر اور لیبیا کا دورہ کیا تھا۔

امریکی محکمہ انصاف کے مطابق عبدالرحمن المودی نے اس کے علاوہ بھی غیر قانونی فنڈ لیبیا کی حکومت سے حاصل کیے تھے۔

امریکہ محکمہ انصاف نے کہا ہے کہ عبدالرحمن المودی کی طرف سے کیے گئے انکشافات ان کے لیے پریشانی کا سبب ہیں ۔

امریکی اٹارنی جنرل نے کہا: ’ہم اس کا مطالعہ کر رہے ہیں اور جب تک یہ ثابت نہ ہو جائے کہ لییبا نے دہشت گردی کی تمام کاروائیوں سے قطع تعلق کر لیا ہے اس وقت تک تعلقات لیبیا کے ساتھ تعلقات نارمل نہیں ہو سکتے۔‘

ان الزامات کے بعد عبدالرحمن المودی کو تئیس سال قید کے علاوہ امریکی شہریت کی منسوخی کا بھی سامنا ہے ۔

عدالت عبدالرحمن المودی کے مقدمے پر فیصلے کا اعلان پندرہ اکتوبر کو کرے گی۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد