کرنل قذافی کا لیبیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گزشتہ چند برسوں کے دوران لیبیا میں اتنی بڑی تبدیلیاں دیکھنے میں آئی ہیں جن کا اندازہ شاید قریب ترین رہنے والے تجزیہ نگار بھی نہیں لگا سکتے تھے۔ بوڑھے ہوتے ہوئے چونسٹھ سالہ کرنل معمر قذافی شاید وقت کے ساتھ بدل گئے ہیں اور اب وہ اپنے ملک کا ’انقلابیوں کی جنت‘ کا امیج بدلنا چاہتے ہیں۔ امریکہ کا لیبیا کے ساتھ مکمل سفارتی تعلقات بحال کرنے کا فیصلہ ان کی اس کوشش کی ایک بڑی کامیابی ہے کہ ان کا ملک دوبارہ بین الاقوامی برادری میں قبولیت حاصل کر لے۔ وہ یقیناً یہ چاہیں گے کہ اس کے بعد دنیا ان کے بارے میں شکوک و شبہات ختم کر دے۔ تقریباً تین دہائیاں پہلے کرنل قذافی نے شاہ ادریس سے اقتدار چھینا اور اس کے بعد سے ملک کے ہر شعبے میں ان کی چھاپ واضح نظر آتی ہے۔ ان کے سیاسی اور سماجی نظریات تین جلدوں پر مشتمل کتاب ’گرین ریوولوشن‘ کی شکل میں موجود ہے جو ستر کی دہائی میں مکمل ہوئی۔ اقتدار سنبھالنے کے تقریباً چار سال بعد انہوں نے ’ثقافتی انقلاب‘ کا آغاز کیا جس کا بنیادی مرکز سرمایہ دارانہ اور کمیونسٹ نظام کے نظریات کا خاتمہ اور نئے اسلامی اور سوشلسٹ معاشرے کی تشکیل سے قبل بیرونی اثرات کا خاتمہ تھا۔ اگرچچہ لیبیا میں تیل کے کافی ذخائر موجود ہیں لیکن کرنل قذافی ذاتی طور پر سادہ زندگی گزارتے ہیں جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ وہ بدو ہیں اور انہیں صحرا سے انس ہے اور وہ مشکل حالات میں بڑے ہوئے ہیں۔ جوانی میں قذافی عرب نیشنلزم سے بہت متاثر تھے اور انیس سو ستر میں جمال عبدالناصر کی وفات کے بعد انہوں نے ان کا جانشین بننا مناسب سمجھا۔ اس وجہ سے ان کے مغرب کے ساتھ تعلقات اچھے نہیں رہے۔ تاہم ماضی قریب میں ان کی پالیسی میں واضح تبدیلی نظر آئی ہے۔ دو ہزار تین میں ان کے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار تلف کرنے کے فیصلے نے سب کو حیران کر دیا۔ اب جب کہ وہ سیاسی اور سفارتی طور پر بحال ہو چکے ہیں، لیبیا میں مزید تبدیلیوں کا امکان ہے۔ معاشی اصلاحات کے ساتھ ساتھ امریکی کمپنیاں دوبارہ تیل اور گیس کے ٹھیکے حاصل کرنے کی کوشش میں ہیں۔ | اسی بارے میں امریکہ و لبیا: مکمل تعلقات کی بحالی15 May, 2006 | آس پاس کارٹون: لیبیا میں احتجاج، 10 ہلاک 17 February, 2006 | آس پاس 30 افریقی ممالک کی کانفرنس 04 July, 2005 | آس پاس طبی کارکنوں کی سزائے موت ختم25 December, 2005 | آس پاس قذافی کی بُش کو لیبیا آنے کی دعوت21 August, 2005 | آس پاس لیبیا:امریکی تیل کمپنی کی واپسی31 July, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||