طبی کارکنوں کی سزائے موت ختم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لیبیا کی سپریم کورٹ نے ان چھ غیر ملکی طبی کارکنوں کی سزائے موت ختم کر دی ہے جنہیں لیبیائی بچوں میں ایچ آئی وی کے جرثومے منتقل کرنے کے الزام میں یہ سزا سنائی گئی تھی۔ عدالت نےپانچ بلغارین نرسوں اور فلسطینی ڈاکٹر کے مقدمے کی دوبارہ سماعت کا حکم دیا ہے۔ مقدمے کی سماعت تریپولی میں واقع سپریم کورٹ میں ہوگی لیکن وکیل صفائی کا کہنا ہے کہ مقدمہ کی پہلی سماعت میں کم سے کم ایک مہینہ لگے گا۔ ادھر استغاثہ کا کہنا ہے کہ انہیں اس فیصلے سے مایوسی ہوئی ہے۔ یہ طبی کارکن سات سال جیل کاٹ چکے ہیں۔ اور ہمیشہ سے انہوں نے اپنی بے گناہی کا دعوٰی کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان پر تشدد کر کے اقبالیہ بیان لیا گیا تھا۔ ان کارکنوں پر الزام تھا کہ انہوں نے جان بوجھ کر سینکڑوں کی تعداد میں بچوں میں ایچ آیی وی کے جراثیم منتقل کیے تھے۔ ان ملزمان کو گولی مار کر ہلاک کر نے کی سزا دی گئی تھی۔ سزائے موت کے خلاف اپیل مغربی طبی ماہرین کے ان بیانات کی بنیاد پر دائر کی گئی تھی کہ ہسپتالوں میں صفائی ستھرائی کی صورتحال بہت خراب تھی اور ان لوگوں کو قربانی کا بکرا بنایا گیا ہے۔ اس وائرس سےمتاثرہ بچوں میں سے پچاس کی موت ہو چکی ہے۔ لیبیائی حکومت کی جانب سے یہ اشارے بھی دیے گئے ہیں کہ اگر متاثرہ کنبوں کو معاوضہ ادا کرنے کے لیے رقم فراہم کی جائے، تو مقدمہ ختم کیا جا سکتا ہے۔ گزشتہ ہفتے ان کنبوں کی امداد کے لیے ایک بین الاقوامی فنڈ قائم گیا گیا تھا لیکن بلغاریہ کا کہنا ہے کہ اس فنڈ میں اس کی شراکت کو یہ نہ سمجھا جائے کہ وہ معاوضہ ادا کر رہا ہے کیونکہ یہ ایک طرح سے اقبال جرم کے مترادف ہوگا۔ ان ملزمان کو سزائے موت سنائے جانے سے لیبیا کےمغربی دنیا سے بہتر تعلقات استوار کرنے کی کوششوں کو بھی نقصان پہنچا تھا۔ اس مقدمے کی کارروائی کو دنیا بھر میں کافی دلچسپی سے دیکھا گیا۔ بلغاریہ، امریکہ اور یورپی یونین نے اس مقدمے کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے بار بار ملزمان کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا اور اب بلغاریہ نے لیبیا کی عدالت کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ ادھر بلغاریہ کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نےاس فیصلے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ’اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مقدمے کی سماعت میں خامیاں تھیں‘۔ لیکن ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ ابھی ایک لمبی قانونی لڑائی لڑی جانی باقی ہے اور اس میں سفارت کاری کا بھی اہم کردار ہوگا۔ | اسی بارے میں سعودی عرب: انسدادِ ایڈز مہم 01 December, 2005 | آس پاس ایڈز، غیرمعمولی اقدامات کی ضروت: یو این01 December, 2005 | آس پاس ایڈز سے ڈیڑھ کرورڑ بچے یتیم 25 October, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||