قذافی کی بُش کو لیبیا آنے کی دعوت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لیبیا کے رہنما معمر قذافی نے امریکی صدر جارج بُش کولیبیا کے دورے کی دعوت دی ہے۔ معمرقذافی نے صدر بُش کو یہ دعوت امریکی سینیٹر رچرڈ لوگر کی وساطت سے پہنچائی ہے۔ سینیٹر لوگر گزشتہ کچھ عرصے سے امریکہ اور لیبیا کے درمیان تعلقات میں بہتری کی غرض سے طرابلس جاتے رہے ہیں۔ امریکہ اور لیبیا سن دو ہزار تین میں لیبیا کے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کا پروگرام ترک کرنے کے بعد سے دو طرفہ تعلقات کی بحالی کے لیے کوشاں ہیں۔ لیبیا کے حالیہ دورے کے دوران سینیٹر رچرڈ لوگر نے کہا کہ دونوں ملکوں کے تعقات میں ڈرامائی تبدیلیاں آ رہی ہیں۔ دوسری جانب کرنل قذافی کے بیٹے سیف الا سلام نے کہا ہے کہ اگر ماضی میں لیبیا میں انسانی حقوق کی کسی بھی قسم کی خلاف ورزی ہوئی ہے تو اس کی تحقیقات ہونا چاہئیں۔
الجـزیرہ ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے سیف الا سلام نے بیرون ممالک میں رہنے والے ہم وطنوں کو ملک واپس آنے کی ترغیب دی اور کہا کہ اُن لوگوں کے خلاف ہونے والی نا انصافیوں کی تلافی کی جائے گی۔ کرنل قذافی کے بیٹے نے یہ انٹرویو ایک سماجی تنظیم ’قذافی انٹرنیشنل فاؤنڈیشن‘ کے صدر کی حیثیت سے دیا ہے۔ سیف الا سلام نے مزید کہا کہ اب لیبیا میں حقائق تبدیل ہو چکے ہیں اور ملک ایک مختلف مستقبل کی جانب گامزن ہے اور اس وقت کا تقاضا ہے کہ پرانی دستاویزات کو سامنے لایا جائے اور انسانی حقوق کی ممکنہ خلاف ورزیوں کی تفتیش کی جائے۔ واضح رہے کہ لاکر بی اور نائجر میں ہوائی جہازوں کے دھماکوں کے بعد سے لیبیا اور مغربی دنیا کے درمیان تعلقات کشیدہ ہو گئے تھے جنہیں لیبیا اب بحال کرنے کی کوششیں کر رہا ہے۔ اس سلسے میں لیبیا کی حالیہ کوششیں نہ صرف مغربی دنیا کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے لیے ہیں بلکہ ملک کے شہریوں کی نظروں میں بھی حکومت کا وقار بہتر بنانے کے لیے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||